نوجوان لڑکی کوبس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے چار افراد آخر کار پھانسی لگادی گئی
2012 بھارت میں چلتی بس میں زیادتی کے تہلکہ مچانے والے نربھیا زیادتی کیس کے ملزمان کوجمعہ کی صبح پھانسی دے دی گئی 2012 میں زیادتی کے بعدمضروبہ طالبہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چند روز بعد انتقال کرگئی تھی اس واقعے کے بعد بھارت میں زیادتی کیخلاف قانون لایاگیا تھا۔ ملزموں کو 2013 میں پھانسی کی سزا سنائی تھی
2013 میں ٹرائل کورٹ نے چار ملزموں کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ مجموعی طور پر چھ افراد کو حراست مین لیا گیاتھا ایک ملزم کو کم عمر ہونے کی وجہ سے تین سال کی سزا ۔ بھگتنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا جب کے ایک ملزم نے 2013 میں جیل میں ہی خودکشی کر لی تھی، میڈیا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی سے قبل ملزمان کو الگ سیل میں رکھ دیا گیا تھا جہاں انہوں کھانا کھانے اور آخری خواہش بتانے سے بھی انکار کردیا۔ ملزمان کی پھانسی کے بعد زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس دن کے لیے طویل انتظار کیا ۔۔ میں ٹرائل چاککک کک بھگتنے کے بعد رہا کردی میڈیا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی سے قبل ملزمان کو الگ سیل میں رکھ دیا گیا تھا جہاں انہوں کھانا کھانے اور آخری خواہش بتانے سے بھی انکار کردیا۔ ملزمان کی پھانسی کے بعد زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس دن کے لیے طویل انتظار کیا میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا یہ واقعہ دسمبر2012 میں پیش آیا تھا جب وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد شام ساڑھے آٹھ بجے بس میں سوار ہوئی تھی ، بس میں سوار چھ افراد نے ان دونوں پر حملہ کردیا اور لڑکے پر بھی تشدد کیا تھا، بعد میں ویرانے میں پھینک دیا تھا جس پر راہگیروں نے انہیں برہنہ حالت میں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی

Comments
Post a Comment