وزیراعظم نے 2 منصوبے اور 2 خدشات بتادیے کرونا وائرس کا آوت بریک سنبھال نہیں سکیں گے

سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ 2 ہفتے بعد کیا صورتحال ہوگی، چین کے تجربے سے سیکھیں گے. انہوں نے کہا کہ تافتان کے معاملے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بہت افسوس ہوا۔ ہمیں خوف تھا کہ چین سے پاکستان میں وائرس آئے گا لیکن پاکستان میں چین سے ایک بھی کرونا وائرس کا کیس نہیں آیا  جب چین میں کرونا وائرس پھیلا تو 15 جنوری کو فیصلہ کیا کہ اس کے اوپر مسلسل نظر رکھیں گے جب پہلا کیس ہوا تو ڈاکٹر ظفر مرزا خود تافتان گئے اور ہمیں حالات کے بارے میں بتایا، اس کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور پاکستان کی فوج کے ساتھ مل کر سہولیات پہنچائیں جو کہ بہت ہی مشکل کام تھا، یہ کہنا کہ اس پر کسی کی غلطی ہے تو یہ بالکل غلط ہے، اس معاملے میں کسی کے اوپر الزام لگانا زیادتی ہوگی.چینی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، جب سے ہمارے زائرین آنا شروع ہوئے تو ہم مسلسل ایران کی حکومت سے رابطے میں رہے  عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے 2 خدشات لا حق ہیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ دوسرا خدشہ یہ ہے کہ اگر افراتفری پھیلی تو لوگ اشیائے خورو نوش ذخیرہ کرلیں گے جس میں حکومت بے بس ہوجائے گی۔ میڈیا مالکان ، اینکرز اور صحافیوں سے اپیل کروں گا کہ سنسنی خیز خبریں دے کر افراتفری نہ پھیلائیں پاکستان میں افراتفری وہ نقصان پہنچائے گی جو کرونا نہیں پہنچا سکتا کیونکہ لوگ بازاروں میں جا کر ساری چیزیں خرید لیں گے ، ایسی صورتحال میں کوئی حکومت کیا کرسکتی ہے، مغرب میں تمام تر سہولیات کے باوجود سپر مارکیٹس خالی ہوگئی ہیں وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے جنگ حکومت نہیں قوم جیت سکتی ہے، ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں گرمی بڑھنے سے وائرس کا پھیلاﺅ کم ہوتا چلا جائے گا، اگر کسی میں زکام یا کرونا کی علامات ہوتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو سیلف قرنطینہ کرلے ، اگر وہ خود کو قرنطینہ کرلیں تو اس کے پھیلاﺅ کے چانسز کم از کم ہوجائیں گے

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی