قرآن کے انکاری
قرآن کے انکاری
السلام علیکم اھل عقل:دنیا میں قرآن کے انکاری،اعلی اور اتم طعام کھاتے ھیں۔ان کی رھائش آرام دہ ھے۔لیکن قیامت کے دن ان کا طعام سینڈ کا درخت اور رھائش، اذیتناک جھنم ھے جس کا تصور بھی ناممکن ھے۔۔۔ مندرجہ ذیل آیات میں ان لوگوں کا ذکر ھے جو قیامت کے دن کا انکار کرتے ھیں۔ایسے لوگ نا صرف اس وقت تھے بلکہ پہلے بھی تھے،اب بھی ھیں اور مستقبل میں بھی ھوں گے۔ان سب کو ،قرآن کی صورت میں آگاہ کیا جا رھا ھےکہ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے وہ ان لاریب فیہ آیات میں غور و فکر کر کےاپنی آخرت بھتر بنائیں۔قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ھے ۔اس کی ھر ایک آیت سورج سے زیادہ روشن حقیت ھے۔کسی دل و دماغ کے اندھے کو "سورج سے زیادہ روشن حقیت" نظر نہیں آ رھی ھے تو وہ کسی قرآن کے ماھر ڈاکٹر سے علاج کرائے،جیسے عقلمند انسان اپنی جسمانی بیماری کا علاج ڈاکر سے کرواتا ھے۔ جس طرح جسمانی بیماری کا علاج ضروری ھے،اس سے کہیں بڑہ کر روحانی علاج اشد ضروری ھے۔جسمانی علاج نہ کرانے سے جسمانی کمزوری یا موت واقع ھوتا ھے ۔جب کہ روحانی بیماری کا نقصان ابدا آباد جھنم ھے۔ روحانی بیماری کا علاج قرآن کے سوا کہیں نہیں۔ عقل مند وہ ھے جو اس لاریب فیہ کتاب پر عمل کرے۔۔"و اصحاب الشمال ما اصحاب الشمال۔ بائیں والے کیسے بائیں والے۔ یعنے جھنمی لوگ۔۔ فی سموم و حمیم۔ تیز بھاپ میں اور جلتے پانی میں۔ جو لوگ قرآن کا انکار کرتے ھیں وہ جھنم کی تیز بھاپ میں ھوں گے اور جب ان کے پیاس بڑھے گی،تو جلتا پانی پیئیں گے۔ و ظل من یحموم۔اور سایہ میں دھوئیں کے۔ دنیا کی آگ کے دھوئیں سے گذرنا مشکل ھوتا ھے۔جب کہ جھنمی، جھنم کےدھوئیں میں رھیں گے۔۔ لا بارد و لا کریم۔ نہ ٹھنڈا اور نہ عزت کا ۔ وہ پانی گرم اور بدبوء دار ھوگا۔۔ انہم کانوا قبل ذالک مترفین۔وہ لوگ تھے اس سے پہلےخوشحال۔ دنیا میں خوشحال لوگ،اپنی دولت اور عھدوں کی بنیاد پر،اکثر اللہ کی کتاب قرآن کا انکار کرتے ھیں اور قرآن پر انفرادی اور اجتماعی طور پر عمل نہیں کرتے بلکہ اپنی دولت،عھدوں اور شقاوت کے بنیاد پر قرآن اور اھل قرآن کو گھٹیا نظروں سے دیکھتے ھیں۔۔ و کانوا یصرون علی الحنث العظیم۔اور ضد کرتے تھے اس بڑے گناہ پر۔ ایسے لوگ قرآن کے انکار پر بضد رھتے ھیں۔ و کانوا یقولون ءاذا متنا و کنا ترابا و عظاما ءانا لمبعوثون۔ اور کھا کرتے تھے کیا جب ھم مر گئے اور ھو چکے مٹی اور ھڈیاں، کیا پہر ھم اٹھائے جائیں گے؟۔ تکبر،ضد،اناد،دولت ،عھدوں اور شھرت کے بنیاد پر،قرآن کا ھی انکار کر بیٹھتے ھیں۔جب کہ یہ جانتے ھیں کہ امتحان ضروری ھے ۔جیسے انھوں نے تعلیم کے لیے بھت سارے امتحانات دے کر ھی آگے آئےھیں۔۔ او آباؤ الاولون۔ اور کیا ھمارے اگلے باپ دادے بھی۔۔۔ اپنے باپ دادوں کے لیے بھی کھ رھے ھیں کہ وہ بھی دوبارہ زندہ ھوں گے جو کافی دن پہلے فوت ھوئے ھیں۔۔ قل ان الاولین و آخرین۔ تو کھ دے اگلے اور پچھلے۔۔ اللہ کھتا ھے کہ ھاں ھاں،پھلے اور قیامت تک مرنے والے سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا ھے۔ان کی زندگی کی پل پل کا حساب لینا ھے۔۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔سب اکٹھے ھونے والےھیں ایک دن مقرر کیےوقت پر۔ جیسے دنیا کا امتحان ضرور ھے جس کا سب انسانوں کو تجربہ ھے۔اسی طرح دنیا میں دی گئی زندگی کا بھی قیامت کا دن حساب ھونا ھے۔ ثم انکم ایھا الضآلون المکذبون۔پہر تم جو ھو ،اے بھکے ھوئے جھٹلانے والو! اے قیامت کو جھٹلانےوالو!اللہ کھتا ھے کہ تم جھوٹے ھو۔لآکلون من شجرۃ من زقوم۔البتہ تم کھاؤ گےایک درخت سینڈ کے سے۔۔ تمھاری قیامت کے دن مھمانی سینڈ کا درخت ھوگا ۔دنیا میں قران کے انکاری،اعلی اور اتم طعام کھاتے ھیں۔اں کی رھائش آرام دہ ھے۔لیکن قیامت کے دن ان کا طعام سینڈ کا درخت اور رھائش، اذیتناک جھنم ھے جس کا تصور بھی ناممکن ھے۔۔ فمالؤن منھا البطون۔ بھروگے اس سے پیٹ۔شدت بھوک کی سبب وہ درخت جھنمی کھائیں گے۔ فشاربون علیہ من الحیم۔پہر پیوگےاس پر ایک جلتا پانی ۔۔جلتے پانی کا تصور تو کرو!؟ فشاربون شرب الحیم۔ پہر پیوگے جیسے پیئیں اونٹ تونسے ھوئے۔ سینڈ کے درخت کھانے سے پیاس بڑھے گی تو جلتا پانی پیئیں گے جس سے پیاس اور بڑھےگی اونٹ کی مانند۔۔ ھاذا نزلھم یوم الدین۔یہ مھمانی ھے ان کی انصاف کے دن۔"(سورہ واقعہ 41 ,56)۔یہ قران کی انکاریوں کی پہلی پہلی مھمانی ھوگی اور آئندہ عذاب پے عذاب ھوگا۔
Comments
Post a Comment