Posts

Showing posts from May, 2020

جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟

جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟ اذ قال لابیہ وقومہ ماتعبدون. قالوا نعبد اصناما فنظل لھا عاکفین.قال ھل یسمعونکم اذ تدعون او ینفعونکم اویضرون.قالوا بل وجدنا آبآننا کذالک یفعلون.(74-26:70)جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟انھوں نے کھا ھم بتوں کی پرستش کرتےھیں.پس ھم ان کے پاس جمےبیٹھےبرھتے ھیں. اس نے کھا کیا وہ تمھاری سنتے ھیں جب تم پکارتےھو؟ یا وہ تمھیں نفع پہنچا سکتے ھیں؟ وہ بولے(نھیں تو) بلکہ ھم نے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے. ھر دور کے انسان سےسوال ھے کہ اللہ کےسوا جن کی عبادت کرتےھو اور مدد و مشکل کشاٸی طلب کرتے ھو کیا وہ تمھاری پکار سنتےھیں؟ کیا وہ تمھیں نفع پہنچاتے ھیں؟اور اگر تم  ان کو نہ پکارو تو کیا وہ تمھیں نقصان پہنچاتے ھیں؟ کیا ان باتوں کا تمھارے پاس قرآنی دلیل ھے؟ قرآن مجید ھر دور کے  انسان کےلیے ھدایت و رھنماٸی ھے. مذکورہ آیت میں ابراہیم علیہ سلام کی گفتگو اپنے باپ اور قوم  سےبیان کی گٸی ھے.جس سے معلوم ھوتا ہے کہ حق کھنے کی ابتدا گھر اور اپنی قوم سے کرنی چاھیے. حق کھنے میں چھوٹے اور بڑے کا ...

سوال:قرآن ذریت کسے کھتا ھے؟

سوال:قرآن ذریت کسے کھتا ھے؟ سوال:قرآن ذریت کسے کھتا ھے؟جواب: جو نسبی اولاد ہے اسےقرآن ذریت کھتا ھے.سوال:قرآن”آل و اھل“ کسے کھتا  ھے؟ جواب:قرآن پیروی کرنےوالوں کو ”آل و اھل“ کھتا ھے جس میں اولاد یا غیر اولاد سب شامل ھیں جب کہ ذریت میں صرف اولاد.”ومن ذریتنا (٢:١٢٨)ذریتھا بعضھا من بعض(٣:١٣٤) اعیذھا بک و ذریتھا(٣:٣٦)ومن ذریتہ داٶد وسلیمان(٦:٨٤)من بنی آدم من ذھورھم ذریتھم (٧:١٧٢) الا ذریة من قومہ(١٠:٨٣)و ازواجھم و ذریاتھم (١٣:٢٣)وجعلناھم ازواجا و ذریہ(١٣:٣٨) ربنا انی اسکنت من ذریتی(١٤:٣٧)لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا(١٧:٤٢) و ذریتہ اولیإٓ من دونی (١٨:٥٨)ربنا ھبلنا من ازواجنا وذریاتنا(٢٥:٨٤)و جعلنا فی ذریتہ النبوة(٢٩:٢٧)انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون(٣٦:٤١ )وجعلنا ذریتہ ھم الباقین(٣٧:٧٧)من صلح من آباٸھم و ازواجھم و ذریاتھم(٤٠:٨)والذین واتبعتھم ذریتھم بایمان (٥٢:٢١)وجعلنا فی ذریتھما النبوة(٥٧:٢٤)

ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا کافی نھیں بلکہ بار بار ترجمہ پڑھنا چاھیے.

ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا کافی نھیں بلکہ بار بار ترجمہ پڑھنا چاھیے. ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا کافی نھیں بلکہ بار بار ترجمہ پڑھنا چاھیے.ترجمہ پڑھنے کے بعد اس میں غور و فکر کرنا بھی اللہ کا ھی حکم ھے”ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر“ سب سے پہلے ترجمہ اور اس میں غور و فکر پر کام کریں. مثلاً: بسم اللہ میں غور کریں اور خود سوال کر کے جواب تلاش کریں.١.کس کے نام سےشروع؟٢.کس کے نام کے ساتھ؟٣.اسی کے ھی نام سے کیوں شروع؟ ٤.اسی کے نام سے ھی کیوں؟٥.کسی دوسرے کے نام سے کیوں نھیں؟٦.کسی دوسرے کے نام سے شروع کیوں نھیں؟ سوالوں کے جوابات تلاش کرو.قرآن اپنے صرف الفاظ پڑھانے نھیں نازل ہوا ہے بلکہ زندگی کا نمونہ اور ڈھنگ تبدیل کرانے آیا ھے کیوں کہ انسان کی زندگی کا نمونہ بالکل نقصاندھ بنا ھوا ھے. ھمارا حال یہ ھے کہ سالہا سال قرآن کی تلاوت کرتے رہے لیکن تبدیلی نام کی کو ئی چیز نھیں. لوگوں کی باتوں کو غور و فکر سے سن کر عمل کیا لیکن اللہ کی "لاریب فیہ" کتاب جو گھر،دکان،آفس وغیرہ میں پڑی ہے پڑھنے کے لیے تیار ہی نھیں.جب ھم پڑھنے کے لیے تیار نھیں تو ترجمہ کیسے دیکھیں گے؟ اگر پڑھا...