مرکزی ملزم کی پریس کانفرنس نے کیس کا رخ ہی موڑ دیا ناصر مدنی تشدد کیس نیا رخ اختیار کرگیا
مولانا ناصر مدنی تشدد کیس نیا رخ اختیار کر گیا ،مبینہ مرکزی کردار اور اہم ملزم رضوان علی خان نے منظر عام پر آکر مولانا ناصر مدنی پر سنگین ترین الزامات عائد کر دیئے.لندن پلٹ رضوان خان نے مولانا ناصر مدنی کو تشدد کا نشانہ کیوں بنایا ؟ مولانا ناصر مدنی کھاریاں کیوں گئےاور نجی ہوٹل میں ہونے والی ڈیل کیا تھی معروف خطیب مولانا ناصر مدنی پر ہونے والے تشدد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے ،تشدد کیس کا مرکزی ملزم رضوان خان نےمنظر عام پر آتے ہوئے مولانا ناصر مدنی پر تشدد کا اعتراف کرتے ہوئے سنگین ترین الزام عائد کر دیئے ہیں ۔ ملزم رضوان خان اسلام آباد میں اپنی بہن ،والدہ اور وکلاء کےہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے برطانیہ سےاپنی پوری فیملی کےہمراہ پاکستان آیاہوں مولانا ناصر مدنی پر فراڈ کا سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ناصر مدنی دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نے اُنہیں اغوا کیا لیکن کیا کوئی کھاریاں میں بیٹھ کر لاہور سے کسی کو کیسے اغوا کر سکتا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا ناصر مدنی جھوٹ بولتا ہے کہ میں نے اور کسی بلو نامی شخص نے اُسے اغوا کیا تھا ناصر مدنی نے عجوہ ریسٹورنٹ میں سب کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ مجھ سے پیسے لے رہا ہے رضوان علی خان نے کہا کہ پریس کانفرنس میں میرے ساتھ میری والدہ اور میری بہن بھی موجود ہیں میری بہن کو کوئی روحانی مسئلے تھے ناصر مدنی میری بہن کو دم کرنے آیا تھا میں بھی چاہتا تھا کہ میری بہن کے روحانی مسائل ٹھیک ہو جائیں جو کچھ میری بہن کے ساتھ ہوا آگے میری بہن خود بتائے گی کہ ناصر مدنی نے اس کے ساتھ کیا کیا ناصر مدنی نے میرے گھر کے باہر اپنی گاڑی کھڑی کی اور پھر میری ماں کے پاس آیا اور دم کیا اس موقع پر میرے ساتھ میری بہن بھی موجود تھی لیکن ہمیں ناصر مدنی کے منصوبے کا علم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے ناصر مدنی نے میری والدہ کو دم کرنے کے بعد مجھے اور میری والدہ کو کمرے سے باہر جانے کا کہا جس پر میں اپنی والدہ کو کمرے سے لے کر باہر نکل گیا مولانا ناصر مدنی کا کہنا تھا کہ روحانی چیزیں ہوتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو تنگ کریں میرا نام سمیرا ہے اور میں انگلینڈ کی رہائشی ہوں ،جیسا کہ میرے بھائی نے بتایا ہے کہ میں ٹھیک نہیں ہوں ،میرے ساتھ کوئی روحانی مسائل ہیں ،میرے ساتھ میری والدہ بیٹھی ہیں ان کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ،ناصر مدنی اپنی مرضی سے ہمارے گھر آیا میرا بھائی انہیں زبردستی ساتھ نہیں لائے،ناصر مدنی نے دم کے بہانے اکیلے کمرے میں مجھے ہراساں کرنا شروع کر دیا اور مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں نے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اونچا بولنا شروع کر دیا ،ناصر مدنی نے مجھے اونچا بولنے سے منع کیا تو میں نے چلانا شروع کر دیا ،میں عزت دار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور انگلینڈ میں ٹیچر ہوں ،ناصر مدنی نے میرے ساتھ جو کرنا چاہا ،وہ کسی بھی طرح ہمارا خاندان اجازت نہیں دیتا ،میں نے اپنے بھائی کو چیخ کر بلایا اور جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا تھا وہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ،جس پر میرے بھائی نے ناصر مدنی کو مارا

Comments
Post a Comment