Posts

Showing posts from June, 2020

“ ان شرک لظلم عظیم“

ان شرک لظلم عظیم لسلام علیکم اھل علم:”کیوں کہ شرک فی العمل جو کیا ھے“ان شرک لظلم عظیم“جب سب کام قرآن کےخلاف ھوں تو کیا زبانی مسلمان ھونا کافی ھے؟زبانی مسلمانی کافی نھیں بلکہ یہ تو منافقی ھے کہ دعوہ ایک اور کام دوسرے.جس نے کلمہ طیب پڑھا اس نے اللہ سےوعدہ کیا کہ اللہ میں پچھلے سارےنظریات و اعمال کو ھمیشہ کےلیے چھوڑ کر،آپ کی قرآن اور سیرت خاتم النبیین محمد رسولﷺ کی پیروی کرنے کا وعدہ و اقرار کرتا ھوں.جو شخص اپنا کیا ھوا وعدہ پورا نہ کرتاھو وہ اس حدیث پر اپنےآپ کو پیش کرے کہ کھیں اس حدیث کا مصداق تو نھیں بن رھا؟”لا دین لمن لا عھد لہ“اس شخص کا دین اسلام سی کوٸی تعلق نھیں جو اپنا وعدہ پورا نھیں کرتا.کلمہ طیب پڑہ کر ھم اللہ سے وعدہ کرتے ھیں کہ اللہ!ھم بقایا زندگی تیرےرسول ﷺ کی پیروی میں گذاریں گے. اب ھم اپنےکیے وعدہ پےنظر کرتے ھوۓ اپنی زندگی پے نظر کریں کہ کیا ھماری زندگی کا انفرادی یا اجتماعی عمل،فرد،گھر،ملکی اور بین الاقوامی سطح پے سیرت رسولﷺ کےمطابق ھے؟اگر نھیں ھے اور یقینا نھیں ھے تو اس حدیث کے مطابق ھم کھاں کھڑے ھیں؟ قرآن پے؟نھیں.بڑا ارمان تو تب ھوتا ھے جب توحید پرست کھلانےوالے نمازی،تبل...

اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے

اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے السلام علیکم اھل فکر: اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے“پاکستان اور خصوصا سندہ کا عوام جو ووٹ کرتےھیں وہ جذباتی ھو کر کرتے.جس کو ووٹ کیا جاتا ھے نہ اس کے فکر کو دیکھا جاتا ھے،نہ اس کے ذاتی کردارکو دیکھا جاتا ھے،نہ ھی اس کے جماعتی کردار کو دیکھا جاتا ھے کہ کل اس کی مالی حالت کیا تھی اور آج یہ کھربیں رپیہ نقد،کارخانےاور ھزاریں ایکڑ زمین کا مالک کسےبن گیا؟کسی بھی جماعت سےوابستگی کے لیے سب پھلے اس کا فکر دیکھا جاٸے کہ اس کا فکر و نظریہ کیا ھے؟کیا اس کا فکر اللہ کا بھیجا ھوا فکر ھے یا انسانوں کا بنایا ھوا فکر ھے؟اگر اس کا فکر ،اللہ کا بھیجا ھوا فکر ھے تو اس میں شمولیت اجتماعی بھلاٸی،انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا ھے.اگر انسانوں کا فکر ھے تو اس میں عام انسانوں کی اخلاقی اور مادی،تباھی اور بربادی ھے،اللہ سےبغاوت اور اس کےرسول ﷺکے فکر سےبغاوت ھے.اس فکر میں غریب اور متوسط طبقہ نیچے سےنیچے چلا جاتا ھے جبکہ چند خاندان امیر سے امیر ترین بن جاتے ھیں.ایسے لوگ انتھاٸی چالاک اور مکار ھوتے ھیں جو متوسط اور نچلے درجے کے لوگوں کو خوبص...

غیبی مدد کس سے مانگیں؟

غیبی مدد کس سے مانگیں؟ السلام علیکم اھل عقل:دنیا کےانسان نے اللہ سے کیے ھوٸے وعدے کو پھینک کر شیطان کی خوشی خوشی بندگی کر رھا ھے.سوال:غیبی مدد کس سے مانگیں؟غیبی مدد اس ذات سےمانگیں جو”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“ھو.یہ قاعدہ کھاں لکھا ھوا ھے؟قرآن میں”الحمد للہ رب العالمین،الرحمان الرحیم،مالک یوم الدین،ایاک نعبد و ایاک نستعین“سب تعریفیں جھانوں کے پروردگار کے لیے ھیں،سب  سےبڑا مھربان، سب سےبڑا رحم کرنےوالا،قیامت کےدن کا مالک،تیری ھی ھم عبادت کرتے ھیں اور تجھ ھی سے ھم مدد مانگتے ھیں.”ایاک نستعین“ ایاک=تجھ ھی سے،نستعین=ھم مدد مانگتے ھیں.تو غیبی مدد اس ذات سے مانگی جاٸےگی جو”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“ھو اور ان صفات کی ذات صرف اللہ ھے.کیا حضرت محمد ﷺ سے مدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیے کہ حضرت محمدﷺ رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان،حضرات حسنین اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنھم سےمدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیے کہ وہ”ر...