نجران کے عیسائیوں کا وفد: تفسیر اور تاریخی پس منظر
س: نجران کے عیسائیوں کا وفد کتنے افراد پے مشتمل تھا؟ استاد غلام حیدر گھنیوں۔ مفسر: مولانا شبیر احمد عثمانی۔ س: نجران کے عیسائیوں کا وفد کتنے افراد پے مشتمل تھا؟ ج:اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ الۡحَھىُّ الۡقَيُّوۡمُؕ (3:2آل عمران) ترجمہ:اللہ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں زندہ ہے سب کا تھامنے والا. تفسیر: نجران کے ساٹھ عیسائیوں کا ایک مؤقر و معزز وفد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں تین شخص عبدالمسیح عاقب بحیثیت امارت وسیادت کے، ایہم السید بلحاظ رائے و تدبیر کے، اور ابو حارثہ بن علقمہ باعتبار سب سے بڑے مذہبی عالم اور لاٹ پادری ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہرت اور امتیاز رکھتے تھے۔ یہ تیسرا شخص اصل میں عرب کے مشہور قبیلہ "بنی بکر بن وائل "سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر پکا نصرانی بن گیا۔ تفسیر مظہری مفسر: قاضی ثناء اللہ پانی پتی الٓمّٓ (31آل عمران)ترجمہ:الم. سورة آل عمران،مدنی سورہ ہے۔اس کی آیات دو سو ہیں۔ س: نجران کے عیسائیوں کے سلسلے میں قرآن مجید کی ایک ھی مرتبہ کتنی آیات نازل ھوئیں؟ ج:ابن ابی حاتم نے بروایت ربیع بن انس بیان کیا کہ کچھ عیسا...