Posts

Showing posts from October, 2021

"ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"

  "ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ" السلام علیکم ذمیوار دوستو:۔اللہ نے"امن اور خوشحالی"کے لیے جو فطری نسخہ دیا ھے ، اس کی طرف دنیا اور پاکسانی عوام ،آنے کے لیے تیار ھی نھیں۔۔ "ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"(106:3٫4)تو چاھیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی،جس نےان کو بھوک میں کھانا دیا اور امن دیا ڈر میں. یہ سورہ مکی ھے اور 29 ویں نمبر پے نازل ھوئی ھے. 1."ًفَلِیَعْبُدُوْا"تو چاھیے کہ بندگی کریں.2."رَبَّ"رب کی۔ 3."ھٰذَ الْبَیْتِ"اس گھر کے. 4۔"اَلَّذِیْ"جس نے. 5."اَطَعَمَھُمْ"،جس نےان کو کھانا دیا. 6."مِنْ جُوْعٍ"بھوک میں. 7."وَّ اٰمَنَ ھُمْ"اور امن دیا ان کو. 8."مِنْ خَوْفُِ"ڈر میں۔۔  اس سورہ سے پھلے سورہ الفیل ھے جس میں ایک خاص واقعے کا ذکر ھے۔اس واقعے کو نزول قرآن کے وقت، گذرے  تقریبا 41 سال ھوئے تھے لیکن واقعہ اتنا اھم اور عبرتناک تھا جو...

حضرت عمر بن عبدالعزیز

  حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت عمر بن عبدالعزیز بن مروان اموی قرشی خلفائے   راشدین میں   خلیفہ خامس   ہیں   جن کو مطابق   حدیث مجدد اسلام میں   پہلا   مجدد تسلیم کیا گیا ہے۔ آپ۹۹ھ میں مسند خلافت پر اس وقت   متمکن ہوئے کہ دور خلافت نے ہر   چہاراطراف میں مظالم   و مفاسد کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی جملہ مظالم کا خاتمہ کر کے شیر و بکری کوایک ہی گھاٹ   پر جمع   فرمایا ۔ علامہ   ابن   جوزی رح   نے لکھا   ہے کہ ایک دن چرواہے   نے شور کیا ۔ اس سے دریافت کی گئ تو   اس نے آ ہ بھر کر کہا کہ خلیفہ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا ہے اسی لیے میں    دیکھ رہا ہوں کہ    بھیڑیے   نے   میری بکری پر    حملہ کردیا ۔ تحقیق   کی گئ تو جو وقت   بھیڑیے کے بکری پر حملہ کرنے کا تھا وہی    وقت   حضرت عمر بن عبدالعزیز   کے انتقال تھا۔ آپ کا سن وفات   101ھ ہے۔ آ پ نے اپنی خلافت کے   قلیل   عرصہ میں اسلا...

قرآن کے انکاری

قرآن کے انکاری  السلام علیکم اھل عقل:دنیا میں قرآن کے انکاری،اعلی اور اتم طعام کھاتے ھیں۔ان کی رھائش آرام دہ ھے۔لیکن قیامت کے دن ان کا طعام سینڈ کا درخت اور رھائش، اذیتناک جھنم ھے جس کا تصور بھی ناممکن ھے۔۔۔ مندرجہ ذیل آیات میں ان لوگوں کا ذکر ھے جو قیامت کے دن کا انکار کرتے ھیں۔ایسے لوگ نا صرف اس وقت تھے بلکہ پہلے بھی تھے،اب بھی ھیں اور مستقبل میں بھی ھوں گے۔ان سب کو ،قرآن کی صورت میں آگاہ کیا جا رھا ھےکہ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے وہ ان لاریب فیہ آیات میں غور و فکر کر کےاپنی آخرت بھتر بنائیں۔قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ھے ۔اس کی ھر ایک آیت سورج سے زیادہ روشن حقیت ھے۔کسی دل و دماغ کے اندھے کو "سورج سے زیادہ روشن حقیت" نظر نہیں آ رھی ھے تو  وہ کسی قرآن کے ماھر ڈاکٹر سے علاج کرائے،جیسے عقلمند انسان اپنی جسمانی بیماری کا علاج ڈاکر سے کرواتا ھے۔ جس طرح جسمانی بیماری  کا علاج ضروری ھے،اس سے کہیں بڑہ کر روحانی علاج اشد ضروری ھے۔جسمانی علاج نہ کرانے سے جسمانی کمزوری یا موت واقع ھوتا ھے ۔جب کہ روحانی بیماری کا نقصان ابدا آباد جھنم ھے۔   روحانی بیماری  کا علاج قر...