"رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ السلام علیکم اھل عقل و شعور انسانوں:اے اللہ کی کتاب ،قرآن سے دور بھاگنے والے باغی انسانوں! اللہ انسان کا ،ان کی جان سے بھی زیادہ ھمدرد ھے،وہ اللہ تمھیں، ھوش و حواس کی حالت میں آگاہ کر رھا ھے کہ تم یقینا مسلمان ھونے کی آرزو اور تمنا کروگے لیکن اس وقت کی آرزو کسی کام کی نھیں سواء ذلت و رسوائی کے۔ "رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ "(15:2)کسی وقت آرزو کریں گے یہ لوگ جو منکر ھیں کیا اچھا ھوتا جو ھوتے مسلمان؟ اے عقل سے کام لینے والے انسانوں ! اللہ کے نافرمانوں پر ،ایسے دن زندگی میں بھی آتے ھیں ،موت اور موت کے بعد بھی ایسا وقت آنے والا ھے جو اللہ اور قرآن کے باغی لوگ،حسرت اور ارمان سے کھیں گے کہ کیا اچھا ھوتا جو ھوتے مسلمان؟ اس وقت حسرت و ارمان کا اظھار،کسی کام کا نھیں۔ عقلمند انسان وہ ھے جو ایسے دن کے حسرت و ارمان سے، اپنے آپ کو دنیا میں قرآن مجید پر عمل کر کے بچائے۔ اس آیت سے مسلمان ھونے کی اھمیت بتائی گئی ھے کہ مسلمان ھونا کتنا اھم مقام و مرتبہ ھے جو اس وقت مسلمان ھ...
Posts
Showing posts from 2021
سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی
- Get link
- X
- Other Apps
سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیااور اپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔ عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہے توشخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔ تو فرمانے لگے تو عثمان غنی کے پاس جا شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہیے ہیں۔تو آپ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو ج...
"ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"
- Get link
- X
- Other Apps
"ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ" السلام علیکم ذمیوار دوستو:۔اللہ نے"امن اور خوشحالی"کے لیے جو فطری نسخہ دیا ھے ، اس کی طرف دنیا اور پاکسانی عوام ،آنے کے لیے تیار ھی نھیں۔۔ "ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"(106:3٫4)تو چاھیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی،جس نےان کو بھوک میں کھانا دیا اور امن دیا ڈر میں. یہ سورہ مکی ھے اور 29 ویں نمبر پے نازل ھوئی ھے. 1."ًفَلِیَعْبُدُوْا"تو چاھیے کہ بندگی کریں.2."رَبَّ"رب کی۔ 3."ھٰذَ الْبَیْتِ"اس گھر کے. 4۔"اَلَّذِیْ"جس نے. 5."اَطَعَمَھُمْ"،جس نےان کو کھانا دیا. 6."مِنْ جُوْعٍ"بھوک میں. 7."وَّ اٰمَنَ ھُمْ"اور امن دیا ان کو. 8."مِنْ خَوْفُِ"ڈر میں۔۔ اس سورہ سے پھلے سورہ الفیل ھے جس میں ایک خاص واقعے کا ذکر ھے۔اس واقعے کو نزول قرآن کے وقت، گذرے تقریبا 41 سال ھوئے تھے لیکن واقعہ اتنا اھم اور عبرتناک تھا جو...
حضرت عمر بن عبدالعزیز
- Get link
- X
- Other Apps
حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت عمر بن عبدالعزیز بن مروان اموی قرشی خلفائے راشدین میں خلیفہ خامس ہیں جن کو مطابق حدیث مجدد اسلام میں پہلا مجدد تسلیم کیا گیا ہے۔ آپ۹۹ھ میں مسند خلافت پر اس وقت متمکن ہوئے کہ دور خلافت نے ہر چہاراطراف میں مظالم و مفاسد کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی جملہ مظالم کا خاتمہ کر کے شیر و بکری کوایک ہی گھاٹ پر جمع فرمایا ۔ علامہ ابن جوزی رح نے لکھا ہے کہ ایک دن چرواہے نے شور کیا ۔ اس سے دریافت کی گئ تو اس نے آ ہ بھر کر کہا کہ خلیفہ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا ہے اسی لیے میں دیکھ رہا ہوں کہ بھیڑیے نے میری بکری پر حملہ کردیا ۔ تحقیق کی گئ تو جو وقت بھیڑیے کے بکری پر حملہ کرنے کا تھا وہی وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کے انتقال تھا۔ آپ کا سن وفات 101ھ ہے۔ آ پ نے اپنی خلافت کے قلیل عرصہ میں اسلا...
قرآن کے انکاری
- Get link
- X
- Other Apps
قرآن کے انکاری السلام علیکم اھل عقل:دنیا میں قرآن کے انکاری،اعلی اور اتم طعام کھاتے ھیں۔ان کی رھائش آرام دہ ھے۔لیکن قیامت کے دن ان کا طعام سینڈ کا درخت اور رھائش، اذیتناک جھنم ھے جس کا تصور بھی ناممکن ھے۔۔۔ مندرجہ ذیل آیات میں ان لوگوں کا ذکر ھے جو قیامت کے دن کا انکار کرتے ھیں۔ایسے لوگ نا صرف اس وقت تھے بلکہ پہلے بھی تھے،اب بھی ھیں اور مستقبل میں بھی ھوں گے۔ان سب کو ،قرآن کی صورت میں آگاہ کیا جا رھا ھےکہ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے وہ ان لاریب فیہ آیات میں غور و فکر کر کےاپنی آخرت بھتر بنائیں۔قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ھے ۔اس کی ھر ایک آیت سورج سے زیادہ روشن حقیت ھے۔کسی دل و دماغ کے اندھے کو "سورج سے زیادہ روشن حقیت" نظر نہیں آ رھی ھے تو وہ کسی قرآن کے ماھر ڈاکٹر سے علاج کرائے،جیسے عقلمند انسان اپنی جسمانی بیماری کا علاج ڈاکر سے کرواتا ھے۔ جس طرح جسمانی بیماری کا علاج ضروری ھے،اس سے کہیں بڑہ کر روحانی علاج اشد ضروری ھے۔جسمانی علاج نہ کرانے سے جسمانی کمزوری یا موت واقع ھوتا ھے ۔جب کہ روحانی بیماری کا نقصان ابدا آباد جھنم ھے۔ روحانی بیماری کا علاج قر...
اللہ کی کتاب قرآن لاریب فیہ
- Get link
- X
- Other Apps
اللہ کی کتاب قرآن لاریب فیہ السلام علیکم اھل عقل و فھم :کیا کفر انسانیت کا ھمدرد ھے؟ جو لوگ قرآن لاریب فیہ اللہ کی کتاب پر عمل نہ کر کے، اپنے آپ سے بھلائی نہ کریں،وہ کبھی بھی انسانیت کے ھمدرد نھیں بن سکتے بلکہ بدترین دشمن ثابت ھوئے ھیں۔۔"وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمُ َِ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولۤائِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ(5:45) اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو اللہ نے اتارا سو وھی لوگ ھیں ظالم۔اللہ کی یہ آیت ھر ایک ذی شعور کو خبردار کر رھی ھے کہ تمھارے ملک میں،تمھارے حکمران، جو اللہ کے نازل کردہ ،حکموں یعنے قرآن کے مطابق فیصلے نہ کریں اور حکومتیں نہ چلائیں،وہ ظالم ھیں۔ایسی حکومت عوام کے لیے ظلم ھے اور بربریت ھیں۔۔ یہ سند کسی اخبار کی نھیں،کسی اسکول کی نھیں،کسی بورڈ کی نھیں،کسی ادارے کے کیے گئے سروے کی نھیں،کسی جج کی نھیں،کسی جیوری کامیٹی کی نھیں،پارلیامینٹ کی نھیں،اقوام متحدہ کی نھیں بلکہ خالق نے اپنی لاریب فیہ سند میں دی ھے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکموں کے مطابق ملک میں فیصلے نھیں کرتے وہ ظالم ھیں۔۔ اے اھل علم و دانش !آپ اچھی طرح جانتے ھیں کہ کفار کے کسی بھی ملک میں ال...
اَلْحمدُ للّٰہِ رَبّ الْعَالَمِین۔الرحمٰن الرحیم۔مٰلک یوم الدین۔اِیّٰاک نعبد وایّٰک نستعین۔
- Get link
- X
- Other Apps
اَلْحمدُ للّٰہِ رَبّ الْعَالَمِین۔الرحمٰن الرحیم۔مٰلک یوم الدین۔اِیّٰاک نعبد وایّٰک نستعین۔ السلام علیکم اھل علم و شعور والے دوستو: جو انسان اللہ کی لاریب فیہ کتاب قرآن پر عمل کرتے ھیں، انھیں اللہ دنیا و آخرت میں بےشمار نعمتوں سے نوازتا ھے اور جو انکار کرتے ھیں انھیں دنیا و أخرف میں ذلیل و رسوا کرتا ھے۔ومن اعرض عن ذکری فانہ معیشۃ ضنکا و نحشرۃ یوما القیٰمۃ اعمٰی۔اَلْحمدُ للّٰہِ رَبّ الْعَالَمِین۔الرحمٰن الرحیم۔مٰلک یوم الدین۔اِیّٰاک نعبد وایّٰک نستعین۔ پہلی تین آیات میں اللہ نے اپنا تعارف کروایا ھے اور چوتھی آیت میں پڑھنےوالوں سے اقرار اور وعدہ لے رھا ھے کہ کھو "ھم تیری ھی عبادت کرتے ھیں اور زندگی بھر تیری ھی عبادت کریں گے اور تجھ سے ھی ھم مدد اور مشکل کشائی مانگتی ھیں اور زندگی بھر مانگتے رھیں گے۔کیوں کہ تیرے سوا کو مشکل کشا اور رب،الرحمٰن،الرحیم اور مٰلک یوم الدین اور کوئی نھیں۔ اللّٰہ کے سوا جن فوت یا شھید انسانوں کو پکارا جاتا ھے،وہ شھید،ولی ،بزرگ،پیر،وغیرہ دوسروں کی مدد و مشکل کشائی کرنا بھت دور کی بات ھے وہ اپنی مدد بھی نھیں کر سکتے کہ وہ قبر سے نکل ک...
آخرت کی کامیابی
- Get link
- X
- Other Apps
آخرت کی کامیابی السلام علیکم اھل علم و فھم دوستو:اے اھل کتاب اور دنیا کے ھر دور کے انسانو!تمھاری دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے سیرت خاتم النبیّٖن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن نُوْرٌ وَّ کِتَاب ھی ھے۔کسی اور فکر و عمل میں نھیں۔۔"ٰٰٰٰٰیا اَھْلَ الْکتاب قَدْ جَآئَُکمْ رَسُوْلُنا یُبِیُّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتَابِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرِ قدْ جَآئَکُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنُ"ََ(5:15) اے کتاب والو تحقیق آیا تمھارے پاس ھمارا رسول،ظاھر کرتا ھے تم پر بھت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور در گزر کرتا ھے بھت چیزوں سے ،بیشک تمھارے پاس آئی ھے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب۔ س:کس سے اللہ مخاطب ھے؟۔ج:"یا اَھْلَ الْکتاب " اے کتاب والو۔یھود سے۔ اسی آیت میں اھل کتاب کے لیے دو مرتبہ"کم"آیا ہے۔ س:اللہ اھل کتاب سے کیا کھ رھا ھے؟۔ج:"قَدْ جَآئَُکمْ رَسُوْلُنا"آیا تمھارے پاس ھمارا رسول.س:اےکتاب والو،اس رسول کا تمھارے ساتھ کیا معاملہ ھے؟۔ ج:"یُبِیُّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِمَّا کُنْتُم...
قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے
- Get link
- X
- Other Apps
قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے السلام علیکم اھل علم و عقل صاحبو:۔قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے ۔قرآن کی پیروی نہ کرنے میں دنیا و آخرت کی زلت و رسوائی اور جانوروں سے بدتر زندگی ھے۔۔ "وَ الًَذِی٘نَ صَبَرُوا اب٘تِغَآءَ وَج٘ہِ رَبًِھِم٘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُولٰٓئِکَ لَھُم عُق٘بَی الدًَارِ۔جَنًٰتِ عَد٘ن یًَد٘ خُلُونَھَا "(13:12,13) اور وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا ,خوشی کو اپنے رب کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان لوگوں کے لیے آخرت کا گھر۔باغ ھیں رھنے کے ،داخل ھوں گے ان میں۔ س:کون لوگ؟ ج"الًَذِی٘نَ صَبَرُ وا"صبر کرنےوالے۔ س:کس کے لیے صبر کرتے ھیں؟ ج:"اب٘تِغَآءَ وَج٘ہِ رَبًِھِم٘" اپنے رب کے لیے۔ س:جو لوگ اپنے رب کے لیے صبر کرتے ھیں ان کے لیے اپنے رب کی طرف سے کیا ھے؟ ج: "اُولٰٓئِکَ لَھُم عُق٘بَی الدًَارِ۔جَنًٰتِ عَد٘ن"جو لوگ اپنے رب کے لیے صبر کرتے ھیں ان کے لیے آخرت کا گھر جنت عدن ھے۔س:اپنے پیاروں کو دفنانے کے بعد کتنا دن سوگ کرنا ھے؟ ج:اسلامی شریعت کے مطابق صرف تین دن سوگ کرنا ھے۔ جنگ احد میں کفار کے 39 افراد مارے گئے اور 70 صحابہ رضہ اللہ عنھ...
قرآن کو ماننےوالو
- Get link
- X
- Other Apps
قرآن کو ماننےوالو اَ لسَّلامُ عَلَيْكُم قرآن ماننےوالے عقلمندو :اےقرآن کو ماننےوالو ! ھجرت مھنگی ترین تجارت تھی .جنھوں نے بھی یہ تجارت کی اللہ نے انھیں دنیا میں ھی اس مھنگی ترین تجارت کے منافعے ”جنت“کا قرآن لاریب فیہ کتاب میں اعلان کیا جس کو پڑہ اور سن کر، مھاجرین رضی اللہ عنھم اور ان کے خلوص دل پیروی کرنے والے قیامت تک خوش ھونگے جبکہ قرآن کا انکار کرنے والے قیامت تک دنیا میں جلتے رھیں گے اور قرآن کے انکار کی بدولت، آخرت میں جھنم کا بدترین ایندھن بنیں گے”والذین کفروا و ذبوا بآیاتنا اولآٸک اصحاب النار ھم فیھا خالدون“ ”فالذین ھاجروا واخرجوا من دیارھم و اوذوا فی سبیلی و قاتلوا و قتلوا لاکفرن عنھم سیآتھم و لادخلنھم جنات تجری من تحتھا الانھار ثوابا من عند اللہ و اللہ عندہ حسن الثواب“(3:195) پھر وہ لوگ کہ ھجرت کی انھوں نے اور نکالے گٸے اپنے گھروں سے اور ستاٸے گٸے میری راہ میں اور لڑے اور مارے گٸے،البتہ دور کروں گا ان سے براٸیاں ان کی اور داخل کروں گا ان کو باغوں میں جن کے نیچے بھتی ھیں نھریں،یہ بدلہ ھے اللہ کے ھاں سے اور اللہ کے ھاں ھے اچھا بدلہ. یہ آ...
”الم تر ان اللہ انزل من السمإٓ مإٓ فاخرجنا بہ ثمرات مختلفا الوانھا ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا و غرابیب سود.و من الناس و الدوآب و الانعام مختلف الوانہ کذالک انما یخشی اللہ من عبادہ العمإٓ ان اللہ عزیز غفور“
- Get link
- X
- Other Apps
”الم تر ان اللہ انزل من السمإٓ مإٓ فاخرجنا بہ ثمرات مختلفا الوانھا ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا و غرابیب سود.و من الناس و الدوآب و الانعام مختلف الوانہ کذالک انما یخشی اللہ من عبادہ العمإٓ ان اللہ عزیز غفور“ اَلسَّلامُ عَلَيْكُم کاٸنات میں غور و فکر کرنےوالے عقلمندو : اللہ نے انسان کو عقل دی ھے کہ وہ اس کاٸنات میں غور و فکر کرے. جو لوگ”ازخود خدا“ کے پجاری ھیں وہ ذرا سوچیں کہ روز مرہ کی استعمال کی چیزیں اپنے آپ نھیں بن سکتی.گندم اپنےآپ گھر موجود نھیں ھو سکتی،وھی گندم اپنےآپ آٹا نھیں بن سکتی،گندم سے اپنے آپ روٹی نھیں بن سکتی.گندم کے لیے جو ضروری اشیإ ھیں وہ اپنے آپ موجود نھیں ھو سکتے تو پھر یہ منظم کاٸنات اور اس کا اپنے آپ چلنا ناممکن ھے. آٸیے مندرجہ ذیل آیات پر غور کریں: ”الم تر ان اللہ انزل من السمإٓ مإٓ فاخرجنا بہ ثمرات مختلفا الوانھا ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا و غرابیب سود.و من الناس و الدوآب و الانعام مختلف الوانہ کذالک انما یخشی اللہ من عبادہ العمإٓ ان اللہ عزیز غفور“(24:27,28)کیا تونے نہ دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی،پھر ھم نے نکالے اس سے میوے ،ط...
”ان الشیطان للانسان عدو مبین“
- Get link
- X
- Other Apps
”ان الشیطان للانسان عدو مبین“ اَلسَّلامُ عَلَيْكُم اھل فکر انسانو :جس طرح دنیاوی خوشحال اور باعزت گذران کے لیے ھر ایک عقلمند انسان کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ھے،اس سے کھیں بڑہ کر،آخرت کی لا محدود زندگی کےلیے، بےشمار اور تصور سے کھیں بڑہ کر نعمتوں کے حصول کے لیے،قرآن کے مطابق محنت و مشقت کرنا ،انسان کے لیے بھت،بھت اور بھت ضروری ھے..جس اللہ نے بندوں کو اپنے ھاتھوں، بھت خوبصورت بنایا اور باعزت کیا .وہ اللہ بندوں پر بھت مھربان ھے.لیکن انسان نے،شیطان کے بھکاٶ میں آ کر، اپنے خالق و مالک ،مھربان،رب و رٶف کے حکموں کو چھوڑ کر، شیطان کے پیچھے لگ جاتا ھے.”ان الشیطان للانسان عدو مبین“ انسان کا شیطان کے پیچھے لگ جانے بعد بھی اللہ نے انسان سے ناراض ھوکر چھوڑ نھیں دیا بلکہ شیطان سے منہ موڑنے کے لیے،اس نافرمان انسان کو چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کرتا ھے تاکہ جس طرح شیطان کے پیچھے اپنی مرضی سے گیا ھے ،اسی طرح اپنی مرضی سے شیطان کو چھوڑ کر،رب و رحمان کی طرف لوٹ آٸے.”و لنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون“(32:24) اورالبتہ چکھاٸینگے ھم ان کو تھوڑا عذاب درے اس بڑے...
”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ ودعوا شھدآٸکم ان کنتم صادقین.فالم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقود الناس و الھجارة اعدة للکافرین
- Get link
- X
- Other Apps
وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ ودعوا شھدآٸکم ان کنتم صادقین.فالم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقود الناس و الھجارة اعدة للکافرین اَلسَّلامُ عَلَيْكُم اھل علم و فھم انسانو:روحانی بیماریاں لگتی نھیں ھیں بلکہ یہ جسمانی بیماریوں سے کہیں خطرناک بیماریاں ھوش و حواس اور سالم دماغ، فواٸد اور نقصانات ،جان بوجھ کر اختیار کی جاتی ہیں۔ ان روحانی بیماریوں کا علاج،مادی بیماریوں کے علاج سے، کھیں بڑہ کر کرنا ھے۔ اللہ نے ان اختیاری بیماریوں کے علاج کے لیے مستند اور سرٹیفاٸیڈ دواٸی ،صرف قرآن کی صورت میں نازل کی ھے.”وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ ودعوا شھدآٸکم ان کنتم صادقین.فالم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقود الناس و الھجارة اعدة للکافرین.انسان کی جسمانی بیماریوں کے لیے اللہ نے بےشمار جڑی بوٹیاں اور دوسری اشیإ پیدا کی ھیں ،جن سے انسانی بیماریوں کی ادویات بناٸی جاتی ھیں.جسمانی بیماریوں کا علاج ،اللہ ھی کی پیدا کردہ اشیإ سے کیا جاتا ھے جو ھر ایک ذی شعور اچھی طرح جانتا ھے.جسمانی بیماریاں اختیاری نھیں بلکہ بے اختیاری اور بے احتی...