آخرت کی کامیابی
آخرت کی کامیابی
السلام علیکم اھل علم و فھم دوستو:اے اھل کتاب اور دنیا کے ھر دور کے انسانو!تمھاری دنیا اور آخرت کی کامیابی کے لیے سیرت خاتم النبیّٖن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن نُوْرٌ وَّ کِتَاب ھی ھے۔کسی اور فکر و عمل میں نھیں۔۔"ٰٰٰٰٰیا اَھْلَ الْکتاب قَدْ جَآئَُکمْ رَسُوْلُنا یُبِیُّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتَابِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرِ قدْ جَآئَکُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنُ"ََ(5:15) اے کتاب والو تحقیق آیا تمھارے پاس ھمارا رسول،ظاھر کرتا ھے تم پر بھت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور در گزر کرتا ھے بھت چیزوں سے ،بیشک تمھارے پاس آئی ھے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب۔ س:کس سے اللہ مخاطب ھے؟۔ج:"یا اَھْلَ الْکتاب " اے کتاب والو۔یھود سے۔ اسی آیت میں اھل کتاب کے لیے دو مرتبہ"کم"آیا ہے۔ س:اللہ اھل کتاب سے کیا کھ رھا ھے؟۔ج:"قَدْ جَآئَُکمْ رَسُوْلُنا"آیا تمھارے پاس ھمارا رسول.س:اےکتاب والو،اس رسول کا تمھارے ساتھ کیا معاملہ ھے؟۔ ج:"یُبِیُّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتَابِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرِ" ،ظاھر کرتا ھے تم پر بھت سی چیزیں جن کو تم چھپاتے تھے کتاب میں سے اور در گزر کرتا ھے بھت چیزوں سے. س: اےاھل کتاب،اللہ کی طرف سے تمھارے پاس اور کیا آیا ھے؟۔ج:"قدْ جَآئَکُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنُ"بیشک تمھارے پاس آئی ھے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب۔اس آیت میں "قَدْ جَآئَُکمْ"دو مرتبہ آیا ھے۔ پہلی مرتبہ" قَدْ جَآئَُکمْ رَسُوْلُنا" کے ساتھ اور دوسری مرتبہ"قدْ جَآئَکُمْ مِنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مُّبِیْنُ" ساتھ۔ یھود کے پاس اللہ نے نہ صرف خاتم النبیّٖن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لیے اللہ نے لاریب فیہ سند قرآن مجید بھی نازل کیا۔ س:اےدنیا کے انسانو!تمھاری طرف کون سی چیز اتاری گئی ھے؟
ج:"وَاَنْزَلْنا اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا"(4:74) اور اتاری ھم نے تم پر روشنی واضح۔ اسی قرآن کو نہ صرف یھود بلکہ قیامت تک کے انسانوں کی ھدایت کے لیے"نُوْرًا مُّبِیْنًا"روشنی واضح,نازل کی گئی ھے۔۔آیت 5:15 میں اھل کتاب کے لیے قرآن کو "نُوْرٌ وَّ کِتَابٌ مبین" اور 4:74 میں پوری انسانیت کے لیے قرآن کو" نُوْرًا مُّبِیْا" کھا گیا ھے ۔قرآن کے خلاف سب کتاب، فکر، نظریہ، ازمس،تھیوریز،اعمال،کردار وغیرہ تاریکی،سیاھی،گمراھی،اجھل پن ھیں۔قرآن کے خلاف جس فکر پر بھی عمل کیا گیا،اس میں انسانیت کی دنیا و اخرت کی ذلت و رسوائی ھے۔جب کہ قرآن پر عمل میں دنیا آخرت کی کامیابی اور بھلائی ھے۔ یہ بھلائی اھل قرآن کو تو نظر ائےگی لیکن جو قرآن سے دور اور "صم بکم عمی فھم لا یعقلون"لوگ ھیں ان کو کبھی بھی نظر نہ آئےگی۔
تحریر استاد غلام حیدر گھنجو
قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے
Comments
Post a Comment