”ان الشیطان للانسان عدو مبین“
”ان الشیطان للانسان عدو مبین“
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم اھل فکر انسانو :جس طرح دنیاوی خوشحال اور باعزت گذران کے لیے ھر ایک عقلمند انسان کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ھے،اس سے کھیں بڑہ کر،آخرت کی لا محدود زندگی کےلیے، بےشمار اور تصور سے کھیں بڑہ کر نعمتوں کے حصول کے لیے،قرآن کے مطابق محنت و مشقت کرنا ،انسان کے لیے بھت،بھت اور بھت ضروری ھے..جس اللہ نے بندوں کو اپنے ھاتھوں، بھت خوبصورت بنایا اور باعزت کیا .وہ اللہ بندوں پر بھت مھربان ھے.لیکن انسان نے،شیطان کے بھکاٶ میں آ کر، اپنے خالق و مالک ،مھربان،رب و رٶف کے حکموں کو چھوڑ کر، شیطان کے پیچھے لگ جاتا ھے.”ان الشیطان للانسان عدو مبین“ انسان کا شیطان کے پیچھے لگ جانے بعد بھی اللہ نے انسان سے ناراض ھوکر چھوڑ نھیں دیا بلکہ شیطان سے منہ موڑنے کے لیے،اس نافرمان انسان کو چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کرتا ھے تاکہ جس طرح شیطان کے پیچھے اپنی مرضی سے گیا ھے ،اسی طرح اپنی مرضی سے شیطان کو چھوڑ کر،رب و رحمان کی طرف لوٹ آٸے.”و لنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون“(32:24) اورالبتہ چکھاٸینگے ھم ان کو تھوڑا عذاب درے اس بڑے عذاب سے تاکہ وہ پھر آٸیں.
س:”و لنذیقنھم من العذاب الادنی“اللہ دنیا میں اپنے بندوں پر کیوں چھوٹے چھوٹے عذاب کرتا ھے؟
ج:”لعلھم یرجعون“ تاکہ اپنے گناھوں سے توبہ تاٸب ھوکر،اپنے اللہ کی طرف لوٹیں.اللہ ،انسان کو چھوٹی چھوٹی تکالیف: بخار، زکام،کان کا درد،آنکھ کا درد،کانٹے کا لگنا،پین کا گرجانا،نٸے کپڑوں کا پھٹ جانا،نٸی گاڑی پر اسکریچ آنا،کوٸی چیز گرجانا،کسی چیز کا لوٹ جانا، وغیرہ دے کر اپنی طرف لوٹانا چھتا ھے.اگر چھوچھوٹی تکالیف سے بھی انسان نھیں لوٹا تو ان تکلیف سے کچھ بڑہ کر تکالیف دیتا ھے: ایکسیڈنٹ ھونا،کسی عضوہ کا کٹ جانا،آنکھوں کی بیناٸی کم ھونا یا بلکل ختم ھوجانا،دل کی تکلیف،آنتوں کا ورم،ٹانگ و بازوں وغیرہ کا ٹوٹنا،دانتوں کا ٹوٹنا،پھیپھڑوں کا فیل ھوجانا،گردوں کا فیل ھوجانا،فصل کا تباہ ھونا،نوکری سے نکالا جانا،کاروبار میں چھوٹا بڑا نقصان ھونا،جانوروں کا اچانک بیمار ھونا اور مرجانا،مال کی چوری ھونا،بچوں پر شدید بیماری کا آنا یا اچانک ناگھانی مصیبت کا پڑنا ،پیاروں کا اچانک مرجانا وغیرہ ،صرف اس نافرمان انسان کو اپنے طرف لوٹانے کے لیے اللہ مسلط کرتا ھے کیوں کہ دنیا کی تکالیف سے،آخرت کی تکالیف کھیں بڑہ کر ھیں.اللہ ان سے بچانے کے لیے دنیا میں تکالیف دے کر جھنم سے بچانا چاھتا ھے. جب دنیا کی چھوٹی سی چیز بھی سوا محنت و مشقت کے اپنے آپ نھیں ملتی تو آخرت کی بےتحاشا اور غیر تصور نعمتیں اپنے آپ کیسے مل سکتی ھیں؟ جس طرح دنیاوی خوشحال اور باعزت گذران کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ھے،اس سے کھیں بڑہ کر،آخرت کی لا محدود زندگی کےلیے، بےشمار اور تصور سے کھیں بڑہ کر نعمتوں کے لیے،قرآن کے مطابق محنت و مشقت کرنی پڑےگی.اگر دنیا کی سکھی اور باعزت زندگی کے لیے کچھ نہ کریں گے تو رسوا اور ذلیل ھونا یقینی ھے. اسی طرح آخرت کی لا محدود زندگی کے لیے قرآن کے مطابق عمل نہ کیا تو دنیا سے کھیں بڑہ کر،بےتصور اذیتناک زندگی کا ھمیشہ سامنا ھوگا جھاں کوٸی مشکل کشا و مددگار نھیں ھوگا.”لا تزر وازة وزر اخری“
Comments
Post a Comment