حضرت عمر بن عبدالعزیز

 حضرت عمر بن عبدالعزیز


حضرت عمر بن عبدالعزیز بن مروان اموی قرشی خلفائے  راشدین میں  خلیفہ خامس  ہیں  جن کو مطابق حدیث مجدد اسلام میں  پہلا  مجدد تسلیم کیا گیا ہے۔ آپ۹۹ھ میں مسند خلافت پر اس وقت  متمکن ہوئے کہ دور خلافت نے ہر چہاراطراف میں مظالم  و مفاسد کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی جملہ مظالم کا خاتمہ کر کے شیر و بکری کوایک ہی گھاٹ  پر جمع  فرمایا ۔ علامہ  ابن  جوزی رح  نے لکھا  ہے کہ ایک دن چرواہے  نے شور کیا ۔ اس سے دریافت کی گئ تو  اس نے آ ہ بھر کر کہا کہ خلیفہ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا ہے اسی لیے میں   دیکھ رہا ہوں کہ   بھیڑیے  نے  میری بکری پر   حملہ کردیا ۔ تحقیق  کی گئ تو جو وقت  بھیڑیے کے بکری پر حملہ کرنے کا تھا وہی   وقت  حضرت عمر بن عبدالعزیز  کے انتقال تھا۔

آپ کا سن وفات  101ھ ہے۔ آ پ نے اپنی خلافت کے  قلیل  عرصہ میں اسلام  اور  ملت کی وہ تعمیری انجام دی ہیں جو رہتی دنیا تک  یادگار رہیں گی۔ احادیث نبوی  (فداہ روحی ) کی جمع  و تربیت کے لئے  آپ نے ایک منظم اقدام فرمایا۔ آپ نے  اپنے دور حکومت  میں بنو امیہ کی وہ جائیدادیں بحق بیت المال  ضبط کر لیں جو انہوں نے ناجائز  طریقوں سے حاصل کی تھیں اور  وہ  اعلیٰ سامان بھی بیت المال میں داخل کردیئے جو لوگوں نے ظلم وجور کی  بنا پر جمع کئے تھے۔ حتیٰ کہ ایک دن اپنی اہلیہ محترمہ کے گلے میں ایک قیمتی ہار دیکھ کر فرمایا کہ تم بھی اسے بیت المال کت حوالے کر دو۔  وہ کہنے لگیں کہ یہ تو میرے  باپ عبدالملک بن مروان نے دیاہے۔ آپ نے فرمایا کہ میرا فیصلہ اٹل ہے اگر میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو ۔ چنانچہ اطاعت شعار نیک خاتوں نے خود ہی اپنا  وہ  ہار بھی بیت المال میں داخل کردیا۔


Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی