"ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"
"ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"
السلام علیکم ذمیوار دوستو:۔اللہ نے"امن اور خوشحالی"کے لیے جو فطری نسخہ دیا ھے ، اس کی طرف دنیا اور پاکسانی عوام ،آنے کے لیے تیار ھی نھیں۔۔ "ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"(106:3٫4)تو چاھیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی،جس نےان کو بھوک میں کھانا دیا اور امن دیا ڈر میں. یہ سورہ مکی ھے اور 29 ویں نمبر پے نازل ھوئی ھے. 1."ًفَلِیَعْبُدُوْا"تو چاھیے کہ بندگی کریں.2."رَبَّ"رب کی۔ 3."ھٰذَ الْبَیْتِ"اس گھر کے. 4۔"اَلَّذِیْ"جس نے. 5."اَطَعَمَھُمْ"،جس نےان کو کھانا دیا. 6."مِنْ جُوْعٍ"بھوک میں. 7."وَّ اٰمَنَ ھُمْ"اور امن دیا ان کو. 8."مِنْ خَوْفُِ"ڈر میں۔۔ اس سورہ سے پھلے سورہ الفیل ھے جس میں ایک خاص واقعے کا ذکر ھے۔اس واقعے کو نزول قرآن کے وقت، گذرے تقریبا 41 سال ھوئے تھے لیکن واقعہ اتنا اھم اور عبرتناک تھا جو ھر وقت یھی جانا جاتا تھا کہ یہ واقعہ ابھی ابھی ھی ھوا ھے۔ اللہ تعالی اس واقعے کو یاد دلاتے ھوئے کھتا ھے کہ اے قریش مکہ! اس اللہ, کعبہ کی رب کی بندگی کرو،جس نے تمھیں ابرہ کے ھاتھیوں کے لشکر سے بچایا اور اس جنگ سے امن دیا۔ جیسا کہ تمھارا علاقہ جابلو ھے لیکن وھاں،دنیا کی پھل پھول اور اناج بھیج کر تمھیں کھانا کھلایا ۔ اس احسان کو یاد کرتے ھوئے ""ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ" یہ سورہ رھندی دنیا کے انسانوں سے شدید مطالبہ کرتی ھے کہ اگر تم اپنے ملک میں امن اور خوشحالی چاھتے تو کعبۃ کے رب کی عبادت کرو۔۔ آج دنیا میں خوشحالی اور امن نھیں۔ ترقی یافتہ یا ترقی پذیر،ھر ایک ملک میں "نہ خوشحالی ھے اور نہ امن" دولت اور کاروبار ،چند مکار اور اللہ کے باغی افراد کے قبضے میں ھے۔جو دن بدن من مانی کرتے ھوئے اشیاء ضروت کی دام بڑھاتے رھتے ھیں۔ ان ھی مفاد پرستوں میں سے ھمارے ملک پاکستان کے ،اللہ کے باغی دولت کے پچاری ،باقی عوام کا خون نچوڑ نچوڑ کر،تجوڑیاں بھر رھے ھیں۔ عوام مھنگائی اور بد امنی کی بھینٹ چڑہ گئی ھے. ھر 15 دن مھنگائی کے سونامی کا طوفان آتا ھے۔ضروری ضروری اشیاء مھنگی ھو رھی ھیں۔عوامی اور اللہ کے ھاں جوابدہ حکمران تو ھیں ھی نھیں۔ یہ تو کھربیں رپیوں کے مالک سیاستدان ھیں،انھیں کوئی احساس نھیں کہ اس روز ،روز کی مھنگائی میں عوام کس مشکل اور مصیبت میں دن بدن پھنس رھا ھے۔ پردے کے پیچھے سارے دولت مند لوگ ایک ھی پچ پر ھیں۔ ظاھرا،شعور سے خالی عوام کو ،چند بیانات دے کر،بے وقوف بناتے ھیں۔ اگر یہ سارے عوام کے ھمدرد اور خیر خواہ ھوتے ،تو سارے ملکر،ایک مؤثر تحریک چلا کر،حکومت کو گرا سکتے تھے لیکن یہ اللہ اور اس کی مخلوق کے بدترین دشمن اور باغی ھیں۔ پڑھا لکھا یا ان پڑہ پاکستانی عوام ،شعور سے بلکل خالی ھے۔ اللہ نے"امن اور خوشحالی"کے لیے جو فطری نسخہ دیا ھے ، اس کی طرف دنیا اور پاکسانی عوام ،آنے کے لیے تیار ھی نھیں۔ یہ کام ھر ایک،دوسرے کا سمجھتا ھےاور اپنے آپ کو اس ذمےداری سی بری الذمہ سمجھتا ھے۔ جب کہ ملک میں اللہ کا قانون جو اللہ کی عبادت ھے،نہ ھوگا تو جو بھی نظام ھوگا اس میں،بد امنی،بےروزگاری،ضروری اشیاء دن بدن مھنگی،شرافت مفقود،ذلالپ ناچتی رھے گی،برائی کو نیکی اور نیکی کو برائی سمجھا جائے گا۔بیٹی نافرمان،باپ کے سامنے برائی کا ارتکاب کرے گی،پیٹا نافرمان،بیوی اپنے فرینڈ کے ساتھ جائے گی ،شوھر کو طاقت نھیں کہ اپنی بیوی کو روکے ،برائی کو نیکی سمجھ کر،اس کی تشھیر کی جائے گی اور نیکی کو برائی سمجھ کر،چھوڑ دیا گیا ھے وغیرہ۔۔ ایسے حالات میں زندگی کا گذران دن بدن،مشکل ترین ھونا 100٪یقینی ھے۔ اگر دنیا اور خصوصا پاکستانی عوام ،اس مشکل سے نکلنے میں سنجیدہ ھے تو ملک میں ،مخلوق کے نظاموں کو ،73 سالوں سے نافذ کر کے،سب کچھ گنوایا ھے ،کو چھوڑ کر صرف اور صرف""ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ"یعنے"ان الدین عند اللہ الاسلام"کو نافذ کریں۔جس میں 100٪دنیا و آخرت اور اللہ کی رضا یقینی ھے۔
تحریر: استاد غلام حیدر
Comments
Post a Comment