قرآن کو ماننےوالو

قرآن کو ماننےوالو 

اَلسَّلامُ عَلَيْكُم قرآن ماننےوالے عقلمندو :اےقرآن کو ماننےوالو ! ھجرت مھنگی ترین تجارت تھی .جنھوں نے بھی یہ تجارت کی اللہ نے انھیں دنیا میں ھی اس مھنگی ترین تجارت کے منافعے ”جنت“کا قرآن لاریب فیہ کتاب میں اعلان کیا جس کو پڑہ اور سن کر، مھاجرین رضی اللہ عنھم اور ان کے خلوص دل پیروی کرنے والے قیامت تک خوش ھونگے جبکہ قرآن کا انکار کرنے والے قیامت تک دنیا میں جلتے رھیں گے اور قرآن کے انکار کی بدولت، آخرت میں جھنم کا بدترین ایندھن بنیں گے”والذین کفروا و ذبوا بآیاتنا اولآٸک اصحاب النار ھم فیھا خالدون“ ”فالذین ھاجروا واخرجوا من دیارھم و اوذوا فی سبیلی و قاتلوا و قتلوا لاکفرن عنھم سیآتھم  و لادخلنھم جنات تجری من تحتھا الانھار ثوابا من عند اللہ  و اللہ عندہ حسن الثواب“(3:195)  پھر وہ لوگ کہ ھجرت کی انھوں نے اور نکالے گٸے اپنے گھروں سے اور ستاٸے گٸے میری راہ میں اور لڑے اور مارے گٸے،البتہ دور کروں گا ان سے براٸیاں ان کی اور داخل کروں گا ان کو باغوں میں  جن کے نیچے بھتی ھیں نھریں،یہ  بدلہ ھے اللہ کے ھاں  سے اور اللہ کے ھاں ھے اچھا بدلہ. یہ آیت سورہ آلعمران کی ھے جو مدنی سورہ ھے.اس آیت میں مھاجرین صحابہ رضی اللہ عنھم کا ذکر ھے.
1.مھاجرین،جنھوں نے اپنا مال،گھر،اولاد اور اپنا آباٸی وطن چھوڑا .
2.مھاجرین ،جنھیں جانی اور مالی اذیتیں دے کر،گھروں سے نکالا گیا.
3.”و اوذوا فی سبیلی“ اللہ کھتا ھے کہ ان کا اپنا ذاتی کوٸی قصور اور غرض نہ تھی.انھیں میری راہ اپنانے کے لیے ستایا اور اذیتناک تکالیف دی گٸیں.
4. میری خاطر ھی جنگیں کی.ان کا اور کوٸی مقصد نہ تھا.
5.میری خاطر ھی انھیں شھید کیا گیا.ان کی کسی ذاتی غرض کے لیے نھیں.
6.اللہ کھتا ھے کہ ان کی براٸیاں ان سے دور کر کے اور ان سے براٸیوں کی میلان دور کر کے پاک کیا. اس آیت کے مطابق اللہ ،ان سب مھاجرین رضی اللہ عنھم کو جنت میں داخل کرے گا  یعنے مھاجرین سارے جنتی ھیں.یہ فیصلہ اس ذات کا ھے جو”یعلم ما بین ایدیھم و ما خلفھم، اور علیم بذات الصدور“ھے جو کھتا ھے  کہ سب مھاجرین رضی اللہ عنھم جنتی ھیں. اللہ نے ان کے داٸمی اور ساری زندگی کے اعمال دیکھتے ھوٸے یہ فیصلہ کیا.کسی آنکھوں اور دل کے اندھے کو یہ بات نا گوارا ھے تو وہ روٸے اپنی شیطان کی پیروی پر اور لوٹے اللہ کی کتاب لارہب فیہ قرآن کی طرف.
7.اس جنت کے نیچے نھریں بھتی ھیں. کیا حسین او مرغوب منظر ھوگا جو جنت اور اس کے نیچے  بھتا ھوا پانی ؟!
8. یہ بدلہ ان کے لیے ھے جنھوں نے اللہ کے لیے ھجرت کی،اللہ کےلیے ستاٸے گٸے اور سب کچھ چھوڑ کر ھجرت کی،پکنک منانے نھیں گٸے،جنگیں کی اور شھید ھوٸے.ان کاموں کی وجھ سے اللہ نے انھیں پاک بھی کیا اور جنت بھی دی.
9.س:ھجرت کس کس نے کی؟ج:حضرت ابو بکر صدیق اکبر،داماد حضرت علی حضرت عمر فاروق اعظم،حضرت عثمان ذو النورین،حضرت علی المرتضی،حضرت حمزہ،حضرت خباب بن ارت،حضرت بلال،،حضرت صھیب رومی،،حضرت سلمان فارسی،،حضرت عبدالرحمان بن اوف، امھات المٶمنین سیدہ عاٸشہ،سیدہ حفصہ،سیدہ زینب،سیدہ صفیہ،بنات الرسول سیدہ زینب زوجہ ابو العاص(وفات 8ھجری)،سیدہ رقیہ زوجہ حضرت عثمان ذوالنورین(وفات رمضان دو ھجری)،سیدہ ام کلثوم زوجہ حضرت عثمان ذوالنورین(وفات 9 ھجری)،سیدہ فاطمة الزھرہ زوجہ حضرت علی المرتضی(وفات 11 ھجری) اور دوسرے اصحاب رضی اللہ عنھم نے ھجرت کی.اےقرآن کو ماننےوالو ! ھجرت مھنگی ترین تجارت تھی .جنھوں نے بھی یہ تجارت کی اللہ نے انھیں دنیا میں ھی اس مھنگی ترین تجارت کے منافعے ”جنت“کا قرآن لاریب فیہ کتاب میں اعلان کیا جس کو پڑہ اور سن کر، مھاجرین رضی اللہ عنھم اور ان کے خلوص دل پیروی کرنے والے قیامت تک خوش ھونگے جبکہ قرآن کا انکار کرنے والے قیامت تک دنیا میں جلتے رھیں گے اور قرآن کے انکار کی بدولت، آخرت میں جھنم کا بدترین ایندھن بنیں گے”والذین کفروا و ذبوا بآیاتنا اولآٸک اصحاب النار ھم فیھا خالدون“
 تحریر: استاد غلام حیدر گھنجو

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی