قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے

 قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے


السلام علیکم اھل علم و عقل صاحبو:۔قرآن پر عمل میں ھی دنیا و آخرت کی کامیابی ھے ۔قرآن کی پیروی نہ کرنے میں دنیا و آخرت کی زلت و رسوائی اور جانوروں سے بدتر زندگی ھے۔۔
"وَ الًَذِی٘نَ صَبَرُوا اب٘تِغَآءَ وَج٘ہِ رَبًِھِم٘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُولٰٓئِکَ لَھُم عُق٘بَی الدًَارِ۔جَنًٰتِ عَد٘ن یًَد٘ خُلُونَھَا "(13:12,13) اور وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا ,خوشی کو اپنے رب کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان لوگوں کے لیے آخرت کا گھر۔باغ  ھیں رھنے کے ،داخل ھوں گے ان میں۔
س:کون لوگ؟
ج"الًَذِی٘نَ  صَبَرُ وا"صبر کرنےوالے۔
س:کس کے لیے صبر کرتے ھیں؟
ج:"اب٘تِغَآءَ وَج٘ہِ رَبًِھِم٘" اپنے رب کے لیے۔
س:جو لوگ اپنے رب کے لیے صبر کرتے ھیں ان کے لیے اپنے رب کی طرف سے کیا ھے؟
ج: "اُولٰٓئِکَ لَھُم عُق٘بَی الدًَارِ۔جَنًٰتِ عَد٘ن"جو لوگ اپنے رب کے لیے صبر کرتے ھیں ان کے لیے آخرت کا گھر جنت عدن ھے۔س:اپنے پیاروں کو دفنانے کے بعد کتنا دن سوگ کرنا ھے؟
ج:اسلامی شریعت کے مطابق صرف تین دن سوگ کرنا ھے۔ جنگ احد میں کفار کے 39 افراد مارے گئے اور 70 صحابہ رضہ اللہ عنھم شھید ھوئے۔خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضہ اللہ عنھم وھاں جنگی لحاظ سے تین ٹہھرے۔س:کیا اسلام اور دوسرے مذاھب  میں فوتی کے دفنانے کے بعد چالیسواں،دس دن بارھواں وغیرہ ھے؟
ج:1. نھیں اور ھرگز نھیں۔اسلام میں پہلے مکہ شریف میں شھید ھونے والے حضرت حارث رضی اللہ عنہ اور بیبی سمیہ رضہ اللہ عنھا ھیں،جن کے لیے خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضہ اللہ عنھم نے ھر سال تین دن یا دس دن سینہ کوبی اور جلوس وغیرہ نھیں نکالا۔
2.جنگ بدر میں 14 صحابہ رضہ اللہ عنھم شھید ھوئے،ان کے لیے ھر سال سینہ کوبی اور دوسری حرام رسومات نھیں کی۔
3.جنگ احد میں 70 صحابہ رضہ اللہ عنھم شھید ھوئے،حضرت حمزہ رضہ اللہ عنہ کی شھادت بھت اذیتناک ھوئی اور ان سب غموں سے بڑہ کر غم،خود خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید زخمی ھونا بھت بڑا غم تھا لیکن ان سب غموں کا نہ تین دن یا دس دن یا ایک ماہ یا ھر سال سینہ کوبی، بےپردگی اور جلوس وغیرہ نھیں نکالا گیا۔
4.خاتم نبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نھیں کیا اور نہ بعد میں ان دردناک دنوں پر سوگ یا سینہ کوبی ،جلوس،بے پردگی نہ دور ابوبکر صدیق اکبر،نہ دور عمر فاروق اعظم،نہ دور صھیب رومی،نہ دور عثمان ذو النورین ،نہ دور علی المرتضی، نہ دور حسن مجتبٰی ،نہ دور معاویہ رضہ اللہ عنھم میں ھوئی۔۔
5.حضرت عمر،حضرت عثمان ،حضرت علی وغیرہ کی شھادت کے بعد کوئی چالیسواں یا 10 یا 30 دن کا سالانہ ماتم، بےپردگی، جلوس ، سبیل وغیرہ نھیں نکالے گئے۔
6.ھمارے علاقے میں ھندو اور مینگھواڑ غیر مسلم رھتے تھے اور رھتے ھیں۔وہ بھی اپنے فوت ھونے والے شخص کے لیے ,دفن کرنے یا جلانے کے بعد صرف تین دن سوگ کرتے ھیں۔ اس کے بعد ان کا چالیسواں یا ھر سال دس دن سوگ نھیں ھوتا.
7. جو لوگ محرم کی پہلی سےلےکر  دسویں تک ماتم،جلوس،بےپردگی،اور دوسرے قرآن کے خلاف ناجائز اور حرام کام کرتے ھیں ،وہ خود اپنے باپ۔بھائی۔بھن۔ماں۔بیٹے،بیٹی وغیرہ کے دفنانے کے بعد صرف تین ھی سوگ کرتے ھیں۔
8. کیا یہ محبت ھے کہ جب حضرت حسین رضہ اللہ عنہ زندہ ھیں تو ماتم، بے پردگی، جلوس اور حرام کام کیے جاتے ھیں اور 10ویں کو شھادت ھوتی ھے تو ان کے سب کام ختم۔کیا یہ حضرت حسین رضہ اللہ عنہ سے ھمدردی ھے؟نھیں بلکہ ان کی شھادت کے دن کے بعد ان کے فلسفے کے مطابق غم کرنا تھا وہ کرتے نھیں ھیں۔غم نہ کر کے بتلاتے ھیں کہ اچھا ھوا کہ حضرت حسین رضہ اللہ عنہ شھید ھوئے.
9.اسلامی شرع کے مطابق غم تو قریبی وارثوں باپ،بیٹا،ماں،بھن،بیوی،بھائی،بیٹی کو کرنا ھے۔حضرت حسین رضہ اللہ عنہ اور دوسرے شھداء سے ان کا کیا رشتہ ھے؟ 10.سید،شیخ،قریشی،کٹبر،مھر،چاچڑ،گھنیاں، ملک،لاکھا، دھاریجہ،منگی،اجن وغیرہ کا حضرت حسین رضہ اللہ عنہ سے کون سا رشتہ ھے؟
11.بھیل،باگڑی،ھندواور دوسرے غیر مسلم وغیرہ کالے کپڑے پہن کر ماتمی، جلوس میں شامل ھوتے ھیں،نیاز کرتے ھیں اور دیکھتے ھیں،ان کاحضرت حسین رضہ اللہ عنہ سے، کیا رشتہ ھے؟ اگر واقعے ان کو حضرت حسین رضہ اللہ عنہ سے محبت ھے تو پہر مسلمان کیوں نھیں ھوتے؟ وہ سمجھتے ھیں کہ ھم میں اور ان میں کوئی فرق نھیں:ھم گائےکی پوجا کرتے ھیں اور یہ گھوڑے اور اوٹھ کی پوجا کرتے ھیں۔ھم بتوں کی پوجا کرتے ھیں اور یہ تصویروں اور جھنڈے کی پوجا کرتے ھیں۔ھم بتوں کے نام سیسہ کرتے ھیں اور یہ نیاز حسین اور نیاز جعفر صادق کرتے ھیں ۔

تحریر استاد غلام حیدر گھنجو

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی