جاوید چودھری المعروف جاہل چوہدری اور انصار عباسی المعروف منافق عباسی
اسلام علیکم دوستو کیسے ہیں آپ، امید ہے خیریت سے ہونگے آپ، دوستو توآج کی میری ویڈیو کا عنوان ہے صحافت کی دنیا کے دو منافق آدمی، دو بڑے نام، دو بڑے پیارے دوست، جن کے دن کی شروعات درود پاک سے ہوتی ہے پھر سارا دن منافقت میں گزرتا ہے، یقینا آپ جاننا چاہتے ہوں گے کہ وہ کون ہیں جی ہاں دوستو وہ ہیں آپ کے جانے پہچانے محترم جاوید چوہدری اور انصار عباسی صاحب ان میں سے آج ہم بات کریںگے جاوید چوہدری صاحب کے بارے میں جاوید چوہدری صاحب کو کون نہیں جانتا کئی سالوں سے محترم ایکسپریس نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں، ایکسپریس نیوز پر پروگرام کرتے ہیں، ایکسپریس اخبار میں اپنے کالم لکھتے ہیں، جناب اپنے پروگرام کی شروعات درود پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اور پہلا سوال ہی طنزیہ انداز سے کرکے کے آگے چلتے ہیں۔ پھر جب کالم لکھنا شروع کرتے ہیں توحدیث تاریخ فقہ اور صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے کے اقوال سے ایسی ایسی مثالیں دیتے ہیں کہ پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ جاوید چوہدری تو بڑا ہی کمال کا لکھتا ہے اورمعلوم اس وقت ہوتا ہے جب وہ پاکستان کے بڑے بڑے چوروں ڈاکوؤں جن میں میاں منشا، ملک ریاض، میاں نواز شریف، احد چیمہ جیسے بڑے بڑے ناموں کو حاجی ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ حکومت اور عمران خان کے لیے تو وہ ایسا سوچتے ہیں کہ جیسے چالیس سال سے عمران خان نے ہی ملک کو لوٹا ہے اور چالیس سال سے جیسے عمران ہی حکومت میں رہا ہے ایسی ایسی باتیں اپنے کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ بندہ کیا کہے اپنی ہی لکھی باتوں کو وہ اسی کالم میں وہ غلط بھی ثابت کردیتے ہیں جیسا کہ 2 اپریل کے کالم میں میں انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان میں اس ٹائم ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کے شکار ہیں یہ بری طرح دوسروں کے خون کے محتاج ہیں تھیلیسیمیا کے بچے نوول کرونا کے پہلے شکار ثابت ہوئے ہیں ملک میں لاک ڈاون ہوا، اور سائیکل ٹوٹ گیاخون دینے اور جمع کرنے والے دونوں محصور ہوگئے، چنان چہ ایک لاکھ بچے سسکنے لگے بچوں کے لواحقین اس ٹائم حکومت این جی اوز اور عام لوگوں کی منتیں کر رہے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا بندوبست نہیں ہورہا میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو فریش بلڈ لگایا جاتا ہے لوگ خون دیتے ہیں اور یہ بچوں کو لگا دیا جاتا ہے لاک ڈاوں میں ظاہر ہے یہ ممکن نہیں رہتا چناچہ اللہ رحم کرے ہم کرونا کے ہاتھوں بچ پاتے ہیں یا نہیں لیکن یہ طے ہے لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوتا تو یہ بچے خدانخواستہ دنیا میں نہیں رہیں گے یہاں تک تو یقینا یہ بات ٹھیک ہے تھیلیسیمیا کے مریضوں کو پرایرٹی بیس پے خون چاہیے تاکہ ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے میری بھی آپ سننے والوں دوستوں سے گزارش ہے کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے آگے آئیں ان کو بلڈ ڈونیٹ کریں جس طرح محترم اقرارالحسن اور کچھ لوگ اس مشکل کی گھڑی میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی مدد فرما رہے ہیں بہرحال اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں جاوید چوہدری نے جو بات اپنے کالم میں اوپر لکھی ہے وہی بات محترم وزیراعظم عمران خان صاحب بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان دھاڑی داروں کا کیا ہوگا ان تھیلیسیمیا کے مریضوں کو بلڈ کیسے دیں گے جو ڈائلاسس کے مریض ہیں انکی ڈائلاسس کیسے ہوگی مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیو لگایا گیا یا تو ان کو کھانا نا کیسے پہنچائیں گے ضروریاتی زندگی کی چیزیں ان تک کیسے پہنچیں گے کیا ہمارے پاس ایسے وسائل ہیں؟ کیا ہم مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیوکے متحمل ہوسکتے ہیں. جاوید چوہدری صاحب یہ کیسی منافقت ہے آپ کی۔ آپ مان بھی رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن یا کرفیو تھیلیسیمیا کے مریضوں کی جان لے سکتا ہے یہی بات تو وزیراعظم کر رہے ہیں۔ اسی کالم میں آپ وزیراعظم پاکستان محترم عمران خان سے مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ملک کو کم ازکم ہیلتھ میں سپر پاور بنا دیں اور یہ کام بڑی آسانی سے آپ کرسکتے ہیں،،،،،، محترم جاوید چوہدری صاحب بانگ دہل آپ اپنے پروگرام میں آپنے کالم میں متعدد بار کہ چکے ہیں اور لکھ چکے ہیں کہ وزیر اعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جب وزیر اعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے تو آپ اپنے کالم میں کیسے وزیراعظم صاحب سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو ہیلتھ میں سپرپاور بنائیں خدارا منافقت چھوڑیں اور سیدھے ہوجائیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ ہیلتھ کے شعبے میں آج تک کوئی کام نہیں ہوا تعلیم کے شعبے میں آج تک ک کوئی کام نہیں ہوا جن کو آپ اپنے کالمز میں میں ولی متقی پرہیزگار لکھتے ہیں ان کو اگلی چالیس سال بھی اگر پاکستان کی حکمرانی دے دیں پھر بھی یہ لوگ ہیلتھ اور ایجوکیشن میں کوئی کام نہیں کریں گے یہ وہ کام کریں گے جس میں کمیشن ہو لوٹ مارہو اللہ پاک آپ کو ہدایت دے اور حق اور سچ لکھنے کی توفیق دے رہی بات انصار عباسی کی اگلی بات ان کے کرتوتوں کی کریں گے۔ اللہ پاک آپ کا ہامی و ناصر ہو

Comments
Post a Comment