حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے دل افروز واقعات


حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے دل افروز واقعات
قصہ نمبر 1
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا اسم مبارک جنید آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد اور والدہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ماموں حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کے مشورہ سے آپ رحمہ اللہ علیہ کے دادا کے نام جنید پر رکھا جنید کے معانی چھوٹے لشکر کے ہیں اور یہ نام آپ رحمتہ اللہ علیہ کے لیے برکت کا باعث بنا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شمار اللہ عزوجل کے ان بندوں میں ہوا جنہوں نے دین اسلام کی ترقی و ترویج کے لیے کام کیا اور مقبول بارگاہ خداوندی ہوئے اور لوگوں میں سید الطائفہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ بچپن سے ہی ذہین تھے اور اللہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو خدا داد صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ رحمتہ اللہ علیہ  مکتب سے گھر لوٹے تو آپ نے اپنے والد کو روتے دیکھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے والد سے رونی کی وجہ دریافت کی تو والد بزرگوار نے فرمایا۔میں اس لیے روتا ہوں کہ میں نے تمہارے ماموں حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کچھ درہم بطور زکوٰۃ بھیجے اور انھوں نے انکار کردیا۔ مجھے آج احساس ہوا کہ میں نے اپنی زندگی ایسے مال کے حصول میں بسر کی جسے اللہ عزوجل کے دوست پسند نہیں کرتے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ درہم اپنے والد بزرگوار سے لیے اور اپنے ماموں حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے اور کہا۔ ماموں جان! اللہ عزوجل کے واسطے آپ رحمۃ اللہ علیہ ان درہم کو قبول کرلیں اور وہ اللہ عزوجل جس نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو بزرگی اور فضیلت عطا فرمائی اور میرے باپ کو عدل کی توفیق دی میں اس کا واسطہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دیتا ہوں۔حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا۔اچھا بتاؤ اللہ عزوجل نے مجھے کونسی فضیلت اور تمہارے باپ کو کونسا عدل فرمایا ہے؟
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا۔
اللہ عزوجل نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو فکر عطا فرمایا اور اس سے بڑھ کر کوئی فضل نہیں جب کہ میرے والد کو توفیق دی کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائے اور اس سے بڑھ کر عدل کیا ہوسکتا ہے؟حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے ایمان افروز کلمات سنے تو بے حد خوش ہوئے اور وہ درہم قبول کر لیئے۔

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی