حضرت بابا فرید رحمۃاللہ علیہ کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ سے جدائی
حضرت بابا فرید رحمۃاللہ علیہ کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری اور حضرت خواجہ
قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ سے جدائی
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار
کاکی رحمۃ اللہ علیہ 8 دن ملتان میں مقیم
رہنے کے بعد واپس دہلی کی جانب عازم سفر ہوئے۔ بابا فرید رحمۃاللہ علیہ حضرت خواجہ
قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ چل دیے یے اور جب ملتان سے باہر
کچھ منازل طے کر چکے تو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے
فرمایا مولانا فرید رحمتہ اللہ علیہ تم واپس لوٹ جاؤ اور اپنے ظاہری علوم کی تکمیل
کرو اور سیروسیاحت کرو کہ درویش کا کل اثاثہ یہی ہے اور جب تم اللہ تعالی کے
برگزیدہ بندوں کے صحبت اختیار کرو تو دیکھو کے کون کس مقام پر موجود ہے اور کیا
کرتا ہے اور جب تم ان سب سے فارغ ہو تو پھر میرے پاس دہلی آنا میں تمہارا انتظار
کروں گا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ
کی بات سنی تو جدائی کے گم سے آنسو جاری ہوگئے مگر بوجہ حکم واپس ملتان اٹھائے اور
ظاہری علوم کی تکمیل میں مشغول ہو گئے۔ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ حج بیت اللّٰہ
کے لیے تشریف لے گئے اور حج بیت اللہ کی سعادت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضر ہوکر قدم بوسی کی سعادت حاصل کی اور روضہ
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مراقبہ کیا۔ بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کو دوران مراقبہ حضور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت باسعادت نصیب ہوئی اور حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا۔ مولانا فرید رحمتہ اللہ
علیہ بارگاہ الہی سے تمہیں خطہ پنجاب مرحمت فرمایا گیا ہے اور تم اجودھن میں مقیم ہوگے
اور وہیں تمہاری تدفین ہوگی اور تمہاری وجہ سے اللہ تعالی خطے میں دین اسلام کو
تقویت بخشے گا اور تم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا .

Comments
Post a Comment