بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کی پیران پیر رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری کی سعادت اور خرقہ کا واقعہ

بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ کی پیران پیر رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری کی سعادت اور خرقہ کا واقعہ

بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ دوران سیاحت بغداد تشریف لے گئے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ نے بغداد میں پیران پیر حضرت شیخ سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری کی سعادت حاصل کی۔ جب آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر پہنچے تو مزار پاک کا دروازہ بند تھا  آپ رحمۃاللہ علیہ نے خادم سے کہا وہ دروازہ کھول دیں تاکہ میں قدم بوسی کی سعادت حاصل کروں۔ خادم نے کہا میں دروازہ نہیں کھولوں گا اور اگر آپ رحمۃ اللہ علیہ واقعی درویش ہیں تو یہیں سے عرض کریں اگر قبولیت ہوگئی تو دروازہ خود بخود کھل جائے گا چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے وہیں کھڑے کھڑے اسلام علیکم یا محبوب سبحانی رحمۃ اللہ علیہ کہا مزار پاک سے آواز آئی وعلیکم السلام یا کتبی رحمانی ی ی اور پھر مزار پاک ابن دروازے خود بخود کھل گیا یا آپ رحمۃ اللہ علیہ اور پاک ہوئے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے تبرکات مبارکہ کی زیارت کی بھی سعادت حاصل کی۔ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں بغداد میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں موجود تھا اور اس وقت حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید جں میں حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی شیخ جلال الدین تبریزی شیخ احدالدین کرمانی اور شیخ برہان الدین رحمۃ اللہ علیہ و دیگر موجود تھے۔ اور اس وقت خرقہ کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی۔ایک شخص جو حضرت بہاؤالدین ذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کا مرید تھا اس نے عرض کیا مجھے بھی خرقہ عطا کیا جائے؟ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا آج تو تم سے معذرت ہے مگر کل تم آنا تمہیں خرقہ مل جائے گا۔ بابا فرید فرماتے ہیں کہ وہ شخص چلا گیا اور رات اس نے خواب میں دیکھا کہ ملائکہ نے درویشوں کی گردنوں کو زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے اور اسے کھینچتے لے جارہے ہیں اس نے ملائکہ سے پوچھا یہ کون ہے ملائکہ نے کہا ان میں سے ایک پیرہے اور دوسرا مرید ہے پیر نے مرید کو خرقہ دیا اور مرید نے خرقہ کا حق ادا نہ کیا اور یہ بازاروں میں گھومتا رہا اور حکمرانوں کی صحبت اختیار کرتا رہا اور اس نے خرقہ کا حق ادا نہ کیا  چنانچہ ہمیں حکم ہوا کہ اس پیر اور مرید دونوں کو زنجیروں میں جکڑ کر جہنم میں دھکیل دیا جائے۔ بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ شخص بیدار ہوا اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مسکرا تے ہوئے فرمایا تم نے خرقہ والوں کا حال دیکھا اور خرقہ پہننے کا حق وہی رکھتا ہے جو اس کا حق ادا کرے اور اپنے مشائخِ کی سنت پر عمل کرے اور لوگوں سے قطع تعلقی اختیار کرے اور اگر میں نے تمہیں خرقہ دیا تو پھر وہی معاملہ پیش آئے گا جو تم خواب میں دیکھ چکے ہو۔

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی