Posts

پھتا وتائي تائين ڪونہ. يڪدم الله کي ڪيئن رسيا.

Image
  پھتا وتائي تائين ڪونہ. يڪدم الله کي ڪيئن رسيا ٻيڙيءَ مان لٿل ماڻھن وتائي کي چيو تہ ھاڻي ڳوٺ ڪيئن پھچبو؟ وتائي چيو تہ پھچڻ تمام سولو آهي ھنن چيو تہ ڪيئن؟ وتائي چيو تہ توهان کي آءٌ کنڀڙاٽين کان ٿو جھليان، پاڻي مٿان ھلنداسون توهان سمورو وقت وتايو وتايو ڪندا ھلجو اميد تہ درياه جي ٻئي ڪناري پھچي وينداسون. وتائي ٻنهي کي کنڀڙاٽين کان پڪڙيو ۽ ھو وتايو وتايو ڪندا ھليا پئي ۽ وتايو الله الله ڪندو پاڻي مٿان پئي ھليو اوچتو ھمراھن کي خيال آيو تہ ٻڌئون تہ سھي وتايو ڇا ٿو چوندو ھلي سو ماٺ ڪري پئي ٻڌائون وتايو تہ الله الله ڪندو پاڻي مٿان پئي ھليو پوءِ دل ۾ خيال آين تہ وتايو الله الله پيو ڪري تہ ڇو نہ اسين بہ الله الله ڪريون اڃان ايترو چيائون تہ ٻئي ايترا ڳورا ٿي پيا جو وتائي کڻي ھٿ ڪڍين تہ ٻڏڻ لڳا. ان تي وتائي فقير کين چيو تہ پھتا وتائي فقير تائين ڪونہ يڪدم الله کي ڪيئن رسيا

انسان کا کھلا دشمن

انسان کا کھلا دشمن السلام علیکم دوستوں:شیطان انسان کا کھلا دشمن ھے اور دشمن سے بچاٶ کرنا عقلمندی ھےاور بچاٶ نہ کرنا انتھا درجے کی بےوقوفی اور جھل ھے”ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون“(٣٢:٢١)اور ھم انھیں قریب کا عذاب بھی ،اس بڑےعذاب سے پھلے چکھاٸیں گے تاکہ وہ باز آجاٸیں.انسان جب شیطان کے جال میں پھنس کر،اس کے پیچھے چلتا ھے تو اللہ اسے لوٹانے کے لیے چھوٹی چھوٹی تکالیف دے کر لوٹانا چاھتا ھے.کبھی خود کو جسمانی اور کبھی عزیزوں اور رشتیداروں کی تکالیف سے اور کبھی اجتماعی تکالیف سے،اس کو تکالیف دی جاتی ھیں.اگر یہ انسان ان تکالیف کے بعد اللہ کی طرف لوٹتا ھے  تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ھے اور اس کے علاوہ پنھچی ھوٸی تکالیف کے بدلے اس کے گناہ ختم کر کہ اس کی جگھ نیکیاں لکھی جاتی ھیں.یعنی انسان کی دنیاوی تکالیف میں بھی انسان ھی کا فاٸدہ ھے.اور اگر پھر بھی نھیں لوٹتا تو اللہ آگے فرماتا کہ اس دنیاوی چھوٹے عذاب کے بعد آخرت کا بڑا عذاب اس کے لیے تیار کیا گیا ھے جو عذاب ٹلنے والا نھیں بلکہ اس عذاب میں اور شدت و جلن پیدا کی جاٸی گی.دنیاوی تکلیف کی شدت ھی انسان سے برداشت ن...

“ ان شرک لظلم عظیم“

ان شرک لظلم عظیم لسلام علیکم اھل علم:”کیوں کہ شرک فی العمل جو کیا ھے“ان شرک لظلم عظیم“جب سب کام قرآن کےخلاف ھوں تو کیا زبانی مسلمان ھونا کافی ھے؟زبانی مسلمانی کافی نھیں بلکہ یہ تو منافقی ھے کہ دعوہ ایک اور کام دوسرے.جس نے کلمہ طیب پڑھا اس نے اللہ سےوعدہ کیا کہ اللہ میں پچھلے سارےنظریات و اعمال کو ھمیشہ کےلیے چھوڑ کر،آپ کی قرآن اور سیرت خاتم النبیین محمد رسولﷺ کی پیروی کرنے کا وعدہ و اقرار کرتا ھوں.جو شخص اپنا کیا ھوا وعدہ پورا نہ کرتاھو وہ اس حدیث پر اپنےآپ کو پیش کرے کہ کھیں اس حدیث کا مصداق تو نھیں بن رھا؟”لا دین لمن لا عھد لہ“اس شخص کا دین اسلام سی کوٸی تعلق نھیں جو اپنا وعدہ پورا نھیں کرتا.کلمہ طیب پڑہ کر ھم اللہ سے وعدہ کرتے ھیں کہ اللہ!ھم بقایا زندگی تیرےرسول ﷺ کی پیروی میں گذاریں گے. اب ھم اپنےکیے وعدہ پےنظر کرتے ھوۓ اپنی زندگی پے نظر کریں کہ کیا ھماری زندگی کا انفرادی یا اجتماعی عمل،فرد،گھر،ملکی اور بین الاقوامی سطح پے سیرت رسولﷺ کےمطابق ھے؟اگر نھیں ھے اور یقینا نھیں ھے تو اس حدیث کے مطابق ھم کھاں کھڑے ھیں؟ قرآن پے؟نھیں.بڑا ارمان تو تب ھوتا ھے جب توحید پرست کھلانےوالے نمازی،تبل...

اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے

اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے السلام علیکم اھل فکر: اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے“پاکستان اور خصوصا سندہ کا عوام جو ووٹ کرتےھیں وہ جذباتی ھو کر کرتے.جس کو ووٹ کیا جاتا ھے نہ اس کے فکر کو دیکھا جاتا ھے،نہ اس کے ذاتی کردارکو دیکھا جاتا ھے،نہ ھی اس کے جماعتی کردار کو دیکھا جاتا ھے کہ کل اس کی مالی حالت کیا تھی اور آج یہ کھربیں رپیہ نقد،کارخانےاور ھزاریں ایکڑ زمین کا مالک کسےبن گیا؟کسی بھی جماعت سےوابستگی کے لیے سب پھلے اس کا فکر دیکھا جاٸے کہ اس کا فکر و نظریہ کیا ھے؟کیا اس کا فکر اللہ کا بھیجا ھوا فکر ھے یا انسانوں کا بنایا ھوا فکر ھے؟اگر اس کا فکر ،اللہ کا بھیجا ھوا فکر ھے تو اس میں شمولیت اجتماعی بھلاٸی،انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا ھے.اگر انسانوں کا فکر ھے تو اس میں عام انسانوں کی اخلاقی اور مادی،تباھی اور بربادی ھے،اللہ سےبغاوت اور اس کےرسول ﷺکے فکر سےبغاوت ھے.اس فکر میں غریب اور متوسط طبقہ نیچے سےنیچے چلا جاتا ھے جبکہ چند خاندان امیر سے امیر ترین بن جاتے ھیں.ایسے لوگ انتھاٸی چالاک اور مکار ھوتے ھیں جو متوسط اور نچلے درجے کے لوگوں کو خوبص...

غیبی مدد کس سے مانگیں؟

غیبی مدد کس سے مانگیں؟ السلام علیکم اھل عقل:دنیا کےانسان نے اللہ سے کیے ھوٸے وعدے کو پھینک کر شیطان کی خوشی خوشی بندگی کر رھا ھے.سوال:غیبی مدد کس سے مانگیں؟غیبی مدد اس ذات سےمانگیں جو”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“ھو.یہ قاعدہ کھاں لکھا ھوا ھے؟قرآن میں”الحمد للہ رب العالمین،الرحمان الرحیم،مالک یوم الدین،ایاک نعبد و ایاک نستعین“سب تعریفیں جھانوں کے پروردگار کے لیے ھیں،سب  سےبڑا مھربان، سب سےبڑا رحم کرنےوالا،قیامت کےدن کا مالک،تیری ھی ھم عبادت کرتے ھیں اور تجھ ھی سے ھم مدد مانگتے ھیں.”ایاک نستعین“ ایاک=تجھ ھی سے،نستعین=ھم مدد مانگتے ھیں.تو غیبی مدد اس ذات سے مانگی جاٸےگی جو”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“ھو اور ان صفات کی ذات صرف اللہ ھے.کیا حضرت محمد ﷺ سے مدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیے کہ حضرت محمدﷺ رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان،حضرات حسنین اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنھم سےمدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیے کہ وہ”ر...

جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟

جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟ اذ قال لابیہ وقومہ ماتعبدون. قالوا نعبد اصناما فنظل لھا عاکفین.قال ھل یسمعونکم اذ تدعون او ینفعونکم اویضرون.قالوا بل وجدنا آبآننا کذالک یفعلون.(74-26:70)جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟انھوں نے کھا ھم بتوں کی پرستش کرتےھیں.پس ھم ان کے پاس جمےبیٹھےبرھتے ھیں. اس نے کھا کیا وہ تمھاری سنتے ھیں جب تم پکارتےھو؟ یا وہ تمھیں نفع پہنچا سکتے ھیں؟ وہ بولے(نھیں تو) بلکہ ھم نے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے. ھر دور کے انسان سےسوال ھے کہ اللہ کےسوا جن کی عبادت کرتےھو اور مدد و مشکل کشاٸی طلب کرتے ھو کیا وہ تمھاری پکار سنتےھیں؟ کیا وہ تمھیں نفع پہنچاتے ھیں؟اور اگر تم  ان کو نہ پکارو تو کیا وہ تمھیں نقصان پہنچاتے ھیں؟ کیا ان باتوں کا تمھارے پاس قرآنی دلیل ھے؟ قرآن مجید ھر دور کے  انسان کےلیے ھدایت و رھنماٸی ھے. مذکورہ آیت میں ابراہیم علیہ سلام کی گفتگو اپنے باپ اور قوم  سےبیان کی گٸی ھے.جس سے معلوم ھوتا ہے کہ حق کھنے کی ابتدا گھر اور اپنی قوم سے کرنی چاھیے. حق کھنے میں چھوٹے اور بڑے کا ...

سوال:قرآن ذریت کسے کھتا ھے؟

سوال:قرآن ذریت کسے کھتا ھے؟ سوال:قرآن ذریت کسے کھتا ھے؟جواب: جو نسبی اولاد ہے اسےقرآن ذریت کھتا ھے.سوال:قرآن”آل و اھل“ کسے کھتا  ھے؟ جواب:قرآن پیروی کرنےوالوں کو ”آل و اھل“ کھتا ھے جس میں اولاد یا غیر اولاد سب شامل ھیں جب کہ ذریت میں صرف اولاد.”ومن ذریتنا (٢:١٢٨)ذریتھا بعضھا من بعض(٣:١٣٤) اعیذھا بک و ذریتھا(٣:٣٦)ومن ذریتہ داٶد وسلیمان(٦:٨٤)من بنی آدم من ذھورھم ذریتھم (٧:١٧٢) الا ذریة من قومہ(١٠:٨٣)و ازواجھم و ذریاتھم (١٣:٢٣)وجعلناھم ازواجا و ذریہ(١٣:٣٨) ربنا انی اسکنت من ذریتی(١٤:٣٧)لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا(١٧:٤٢) و ذریتہ اولیإٓ من دونی (١٨:٥٨)ربنا ھبلنا من ازواجنا وذریاتنا(٢٥:٨٤)و جعلنا فی ذریتہ النبوة(٢٩:٢٧)انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون(٣٦:٤١ )وجعلنا ذریتہ ھم الباقین(٣٧:٧٧)من صلح من آباٸھم و ازواجھم و ذریاتھم(٤٠:٨)والذین واتبعتھم ذریتھم بایمان (٥٢:٢١)وجعلنا فی ذریتھما النبوة(٥٧:٢٤)