جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟
جب انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟
اذ
قال لابیہ وقومہ ماتعبدون. قالوا نعبد اصناما فنظل لھا عاکفین.قال ھل یسمعونکم اذ
تدعون او ینفعونکم اویضرون.قالوا بل وجدنا آبآننا کذالک یفعلون.(74-26:70)جب
انھوں نے کھا اپنے باپ اور اپنی قوم کو،تم کس کی پرستش کرتےھو؟انھوں نے کھا ھم
بتوں کی پرستش کرتےھیں.پس ھم ان کے پاس جمےبیٹھےبرھتے ھیں. اس نے کھا کیا وہ
تمھاری سنتے ھیں جب تم پکارتےھو؟ یا وہ تمھیں نفع پہنچا سکتے ھیں؟ وہ بولے(نھیں
تو) بلکہ ھم نے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے. ھر دور کے انسان سےسوال ھے کہ
اللہ کےسوا جن کی عبادت کرتےھو اور مدد و مشکل کشاٸی طلب کرتے ھو کیا وہ تمھاری
پکار سنتےھیں؟ کیا وہ تمھیں نفع پہنچاتے ھیں؟اور اگر تم ان کو نہ پکارو تو
کیا وہ تمھیں نقصان پہنچاتے ھیں؟ کیا ان باتوں کا تمھارے پاس قرآنی دلیل ھے؟ قرآن
مجید ھر دور کے انسان کےلیے ھدایت و رھنماٸی ھے. مذکورہ آیت میں ابراہیم
علیہ سلام کی گفتگو اپنے باپ اور قوم سےبیان کی گٸی ھے.جس سے معلوم ھوتا ہے
کہ حق کھنے کی ابتدا گھر اور اپنی قوم سے کرنی چاھیے. حق کھنے میں چھوٹے اور بڑے
کا سوال نھیں.بڑوں پر چھوٹوں کی اصلاح لازمی کرنی ھے لیکن اگر بڑا گمراہ راستے پر
چل رھا ھے تو اس کی اصلاح کے لیے چھوٹے کو اخلاق کےداٸرے میں رھتےھوٸے اصلاح کی
سرتوڑ کوشش کرنی چاھیے.ابراھیم علیہ سلام نے باپ اور قوم سے جو سوال کیا ھے وہی
سوال آج ھر اس شخص سے کیا جاٸےگا جو اللہ کے ساتھ یا اللہ کے علاوہ
کسی فوت یا شھید مقرب انسان ،قبر،سورج،چاند، جھنڈہ،برج، مقام وغیرہ سے
مدد ،مشکل کشاٸی یا ان کے نام پے پرستش کر رھا ھے یا آٸندہ کرےگا، تو وہ بھی
کوٸی قرآنی دلیل نھیں دےگا بلکہ کھے گا ھم نے اپنے باپ دادوں اور بڑوں کو ایسے
کرتے دیکھا ھے اور ھم کرتے ھیں اور کرتے ھی رھیں گے. قرآن سے دور باپ دادوں کی یا
مولوی کی بات نھیں مانی جاٸے گی بلکہ بات مانی جاٸے گی اللہ کی لا ریب فیہ
کتاب کی جس میں انسان کی دنیا وآخرت میں 100% یقینا کامیابی ھے.
Comments
Post a Comment