کیا اللہ دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول کرے گا؟ | اسلام کی برتری قرآن کی روشنی میں
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِئِـيۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ(2:62 بقرہ)ترجمہ:جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے.
سور بقرہ پہلی مدنی سورۃ ھے۔خاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے"اوس اور خزرج قبائل "کے مسلمانوں کے اسرار پے مک شریف سے اصحاب رضوان اللہ علیہم کو مدینہ طیبہ ھجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ اور بعد میں خود بھی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے ساتھ مدینہ طیبہ ھجرت کی۔ ھجرت کرنے والے اور جنہوں نے ان کی مدینہ طیبہ میں مدد کی،قرآن مجید کے مطابق وہ"مھاجرین اور انصار "کہلاتے ھیں اور مھاجرین و انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم"اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ"ھے۔
وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ(8:74 الانفال)ترجمہ:اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی یہ وہ لوگ ہیں جو واقعی ایمان والے ہیں ان کے لئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے.
مدینہ طیبہ میں یہود میں سے بھی زبانی مسلمان ھوئے تھے،جن کو قرآن کی زبان میں"منافق"کہا جاتا ھے۔
سورہ بقرہ پہلی مدنی سورۃ ھے ،جس کے پہلے رکوع میں"اولٰئک علٰی ھدی من ربھم واولٰئک ھم المفلحون"تک،مھاجرین وانصار کی اللہ نے مدح بیان کی ھے جو اللہ "علیم بذات الصدور "ذات ھے۔
اس کےبعد"ان الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ولھم عذاب عظیم"تک یہود و کفار کا اللہ نے ذکر کیا ھے۔
اس کے بعد دوسرا رکوع شروع ھوتا ھے اس رکوع میں،منافقین مدینہ کے کردار کا اللہ نے ذکر کیا ھے۔
سورہ بقرہ کی آیت 2:62 "اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِئِـيۡنَ"میں ایسے نام کے مسلمانوں(منافق)، یہودیوں، عیسائیوں، صابئین یعنے دنیا کے جس بھی دین،دھرم، نظریہ،فکر وغیرہ کے پیروکارھوں،ان کا فکر اللہ کے ھاں قابل قبول ھر گز نہیں۔
مندرجہ بالا لوگ اس وقت کے ھوں یا آج کے ھوں،سب گمراہ ھیں۔جب کہ اسلام کے سواء ھر فکر و عمل والا ،اپنے آپ کو راہ راست سمجھ کر،اس پر عمل پیرا ھے۔
س:اس گمراھی اور بے دینی سے بچنے کا واحد راستہ کون سا ھے؟ج:"مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا"جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا.
اس آیتِ میں ایمان لانے کا مطلب،صرف اللہ پر ایمان لانا ھرگز نہیں بلکہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ھے سابقہ ھر ایک فکر کو ھمیشہ کے لیے چھوڑ کر،صرف"لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ"کا دل و ذھن، زبان اور عمل کی نیت سے اقرار کرنا۔
اس کا مطلب یہ ھرگز نہیں کہ صرف اللہ پر ایمان لایا جائے۔"اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰ لِكَ سَبِيۡلًا (4:150 نساء)ترجمہ:جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ تم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں.
اللہ پر ایمان لانے کا مطلب واضح ھے کہ ھر فکر و عمل کو، ھمیشہ کے لئے چھوڑ کر صرف اللہ اور اس کے آخری رسول خاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ،بقیہ زندگی کے ھر ایک شعبے میں،اس کلمہ کے تحت پیروی کی جائے۔
قرآن دوسری جگہ کہتا ھے"ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ"اور جس نے رسول (خاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کی،پھر تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
معلوم ھوا کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ھے کلمہ طیب کا اقرار۔
س:اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ھے؟ج:اللہ کی پسند کو ،اپنی پسند سمجھ کر دل و جان ماننا اور اس کی پیروی کرنا:اِنَّ الدِّيۡنَ عِنۡدَ اللّٰهِ الۡاِسۡلَامُ ۗ(3:18 آل عمران)بیشک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے.
س:جو انسان اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کے سواء کوئی اور دین مان کر،اس پر عمل کرے،کیا وہ دین،اللہ کے ھاں قابل قبول ھوگا؟ج:ھرگز نہیں،اللہ ایسے لوگوں سے جلد حساب لینے والا ھے:"وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ (3:19 آل عمران) ترجمہ: اور نہیں اختلاف کیا ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا محض آپس میں ضدا ضدی کی وجہ سے، اور جو شخص اللہ کی آیات کا انکار کرے سو اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔س:کیا اللہ دین اسلام کے سواء دوسرا دین پسند کرے گا ؟ج:ھرگز نہیں:"وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ (3:85 آل عمران)ترجمہ:اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہر گر قبول نہیں کیا جائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں ہوگا.
اللہ پر ایمان لانے والوں سے قرآن کی یہ آیت بھی شدید مطالبہ کرتی ھے کہ:"اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ(7:3الاعراف )ترجمہ:اس چیز کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف اتاری گئی، اور اس کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع نہ کرو، تم کم نصیحت حاصل کرتے ہو.
س:کیا دنیا کے ھر ایک فکر والا جو اعمال کرتا ھے،اسے حق سمجھ کر کرتا ھے؟ج:جی ھاں۔دنیا کے مذاھب کی پیروی کرنے والے اپنے آپ کو،حق پر سمھ کر،اس کی پیروی کرتا ھے۔س:کیا کسی فکر کو،سواء لاریب دلائل کے ماننا حق پرستی ھے؟ج:ھرگز نہیں۔حق پرستی کے لیے لاریب دلائل چاھییں۔
س:کیا قرآن سے بڑہ کر کوئی لاریب دلیل ھے؟ج:ھرگز نہیں کیوں کہ اللہ نے تقریباً 1450سال پہلے چیلینج دی تھی کہ اے فصاحت و بلاغت صاحب عربو!اگر تمہیں قرآن میں شک ھے تو پہر اس جیسی دس سورتیں بنا لاؤ،اگر دس نہیں بنا لاتے تو ایک ھی بنا کر لاؤ۔
اس چیلینج کو تقریباً 1450 سال گذر گئے ھیں اور آج تو سائنس کا بھی بڑا چرچا ھے،جس پر کفار کی اجارہ داری قائم ھے،نے بھی یہ چیلینج پوری نہیں کی اور نہ قیامت تک کفر پوری کر سکتا ھے۔
جب عرب جو فصاحت و بلاغت کے صاحب تھے انہوں نے یہ چیلینج پوری نہ کی تو رافضی،خارجی،یہودی،عیسائی،قادیانی،ایرانی اور کفر جو عجم ھے وہ ھرگز پوری نہیں کر سکتا کیونکہ یہ رحمٰن کا کلام ھے انسانوں کا کلام نہیں۔
استاد غلام حیدر گھنیوں۔
Comments
Post a Comment