انسان کا کھلا دشمن
انسان کا کھلا دشمن
السلام علیکم دوستوں:شیطان انسان کا کھلا دشمن ھے اور دشمن سے بچاٶ کرنا عقلمندی ھےاور بچاٶ نہ کرنا انتھا درجے کی بےوقوفی اور جھل ھے”ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون“(٣٢:٢١)اور ھم انھیں قریب کا عذاب بھی ،اس بڑےعذاب سے پھلے چکھاٸیں گے تاکہ وہ باز آجاٸیں.انسان جب شیطان کے جال میں پھنس کر،اس کے پیچھے چلتا ھے تو اللہ اسے لوٹانے کے لیے چھوٹی چھوٹی تکالیف دے کر لوٹانا چاھتا ھے.کبھی خود کو جسمانی اور کبھی عزیزوں اور رشتیداروں کی تکالیف سے اور کبھی اجتماعی تکالیف سے،اس کو تکالیف دی جاتی ھیں.اگر یہ انسان ان تکالیف کے بعد اللہ کی طرف لوٹتا ھے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ھے اور اس کے علاوہ پنھچی ھوٸی تکالیف کے بدلے اس کے گناہ ختم کر کہ اس کی جگھ نیکیاں لکھی جاتی ھیں.یعنی انسان کی دنیاوی تکالیف میں بھی انسان ھی کا فاٸدہ ھے.اور اگر پھر بھی نھیں لوٹتا تو اللہ آگے فرماتا کہ اس دنیاوی چھوٹے عذاب کے بعد آخرت کا بڑا عذاب اس کے لیے تیار کیا گیا ھے جو عذاب ٹلنے والا نھیں بلکہ اس عذاب میں اور شدت و جلن پیدا کی جاٸی گی.دنیاوی تکلیف کی شدت ھی انسان سے برداشت نھیں ھو رھی جو٦٩ حصہ آخرت کے عذاب کی شدت سے کم ھے تو آخرت ٦٩ حصے کیسے برداشت ھوں گے؟تصور تو کریں.پھلے شیطان تو انسان کو تسلی دیگا کہ دوزخ و جنت ھے ھی نھیں؟اگر یہ بات نہ مانی گٸی تو پھر دوکھے میں رکھتا اللہ غفور رحیم ھے جس نے اپنے ھاتھوں سے بنایا ھے وہ کیسے عذاب کرےگا؟ یاد رکھو،غفور و رحیم کی صفات دنیا کے لیے ھیں جب کہ آخرت میں”واحد القھار“ کی صفت لاگو ھوگی.اے انسان! یاد رکھ کہ یہ سب شیطان کا دوکھا ھے، وہ یہ چاھتا ھے کہ جس انسان کی وجھ سے میں اللہ کی رحمت سےدور ھوا ھوں،اس انسان کو ساتھ لےکر جھنم جانا ھے”ان الشیطان للانسان عدو مبین“بیشک شیطان انسان کا صریح دشمن ھے.جیسے دنیاوی دشمن سے اپنا دفاع کرنا ضروری ھے اسی طرح اخروی دشمن سے اپنا دفاع کرنا بھت ضروری اور بڑی عقلمندی ھے.دنیاوی انسان کی دشمنی،اس کے کردار سے جانی جاتی ھے کبھی اس میں دوکھا بھی کھایا جاتا اور مخلص دوست کو کھو بیٹھتا ھے لیکن شیطان کے انسان کا دشمن ھونا، اللہ کھ رھا ھے کہ اے انسان!شیطان تمھارا کھلا دشمن ھے اور دشمن سے بچاٶ کرنا عقلمندی ھے اور بچاٶ نہ کرنا انتھا درجے کی بےوقوفی اور جھل ھے.
Comments
Post a Comment