اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے
السلام علیکم اھل فکر: اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے“پاکستان اور خصوصا سندہ کا عوام جو ووٹ کرتےھیں وہ جذباتی ھو کر کرتے.جس کو ووٹ کیا جاتا ھے نہ اس کے فکر کو دیکھا جاتا ھے،نہ اس کے ذاتی کردارکو دیکھا جاتا ھے،نہ ھی اس کے جماعتی کردار کو دیکھا جاتا ھے کہ کل اس کی مالی حالت کیا تھی اور آج یہ کھربیں رپیہ نقد،کارخانےاور ھزاریں ایکڑ زمین کا مالک کسےبن گیا؟کسی بھی جماعت سےوابستگی کے لیے سب پھلے اس کا فکر دیکھا جاٸے کہ اس کا فکر و نظریہ کیا ھے؟کیا اس کا فکر اللہ کا بھیجا ھوا فکر ھے یا انسانوں کا بنایا ھوا فکر ھے؟اگر اس کا فکر ،اللہ کا بھیجا ھوا فکر ھے تو اس میں شمولیت اجتماعی بھلاٸی،انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا ھے.اگر انسانوں کا فکر ھے تو اس میں عام انسانوں کی اخلاقی اور مادی،تباھی اور بربادی ھے،اللہ سےبغاوت اور اس کےرسول ﷺکے فکر سےبغاوت ھے.اس فکر میں غریب اور متوسط طبقہ نیچے سےنیچے چلا جاتا ھے جبکہ چند خاندان امیر سے امیر ترین بن جاتے ھیں.ایسے لوگ انتھاٸی چالاک اور مکار ھوتے ھیں جو متوسط اور نچلے درجے کے لوگوں کو خوبصورت نعروں سے خوش کر کے، ان کے ووٹ پے مزے اڑاتے ھیں اور دولت لوٹتے رھتے ھیں اور یہ متوسط اور نچلہ طبقہ اپنا ووٹ دنیا اور آخرت کی تباھی کے لیے بنا سوچے سمجھے استعمال کرتے رھتے ھیں.ان کے ووٹ پے کامیاب ھونے والا”ٹیپو خان“جو بھی براٸیاں،فراڈ،زنا،قرآن کے خلاف بناٸے گٸے قوانین وغیرہ کے گناھوں کا حصہ اس ووٹ دینے والے کے حصے میں پڑیںگے جب تک ایسے ناجاٸز قوانین اور گناہ کے کام موجود ھوں گے.لوگ ووٹ کی اھمیت کو سمجھتے ھی نھیں ھیں.ان پڑہ تو ان پڑہ،پڑھے لکھےمادی اور دینی تعلیم والے بھی اس گناھ کی بٹھی میں کود کر چھلانگ لگاتے ھیں اور ووٹ کے استعمال کو معمولی اھمیت دے کر،اسے ذاتی اور غیر مذھبی معاملہ سمجھتے ھیں.نھیں،نھیں،نھیں...........ووٹ اھم دینی مسٸلہ ھے جس پر ملکی نظام چلانے کا مدار ھے.نماز،روزہ،حج،زکاة،اضحی،فطرہ وغیرہ انفرادی عبادت ھے اور ووٹ اجتماعی عبادت یعنے ملکی انتظام چلانے کے لیے دیا جاتا ھے.اس بات کو مسلمان اور خصوصا سندہ کے لوگ کوٸی اھمیت نھیں دیتے.چند ٹکوں کی خیرات اور پٹیوالی،چوکیداری یا کوٸی اور نوکری پر اپنی آخرت تباہ و برباد کر رھے ھیں جبکہ انسان کی پیداٸش ان چند ٹکوں پر بکنے کے لیے نھیں تھی بلکہ اللہ کے دین کا نفاذ کرنا ھے”انی جاعل فی الارض خلیفہ“لیکن افسوس!مسلمان،اس قرآنی پیغام کو،عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنےآپ کو توحید پرست، عالم،حافظ،مفتی،دین کے داعی ھونے کی دعویداروں نے بھی اس اجتماعی واضح قرآنی عبادت کا انکار کر کہ،قرآن کا انکار کیا ھے”و من لم یحکم بمآ انزل اللہ فاولآٸک ھم الکافروں،ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولآٸک ھم الظالمون“اور اس اھم عبادت میں مخلوق کے نظام کو شریک کر کے بدترین شرک کیا ھےاور”ان الشرک لظلم عظیم“ اللہ کے نظام کو چھوڑ کر،انسانوں کے نظام کو ووٹ دے انسانوں کے نظام کا نفاذ کرانا”ان الشرک لظلم عظیم“ ھے.اس لیےجو ھوگیا اس پر توبہ تاٸب ھوجاٶ اور اپنےآپ،گھر اورقوم کو اس بدترین شرک سے بچاٶ.
Comments
Post a Comment