غیبی مدد کس سے مانگیں؟
السلام علیکم اھل عقل:دنیا کےانسان نے اللہ سے کیے ھوٸے وعدے کو پھینک کر شیطان کی خوشی خوشی بندگی کر رھا ھے.سوال:غیبی مدد کس سے مانگیں؟غیبی مدد اس ذات سےمانگیں جو”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“ھو.یہ قاعدہ کھاں لکھا ھوا ھے؟قرآن میں”الحمد للہ رب العالمین،الرحمان الرحیم،مالک یوم الدین،ایاک نعبد و ایاک نستعین“سب تعریفیں جھانوں کے پروردگار کے لیے ھیں،سب سےبڑا مھربان، سب سےبڑا رحم کرنےوالا،قیامت کےدن کا مالک،تیری ھی ھم عبادت کرتے ھیں اور تجھ ھی سے ھم مدد مانگتے ھیں.”ایاک نستعین“ ایاک=تجھ ھی سے،نستعین=ھم مدد مانگتے ھیں.تو غیبی مدد اس ذات سے مانگی جاٸےگی جو”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“ھو اور ان صفات کی ذات صرف اللہ ھے.کیا حضرت محمد ﷺ سے مدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیے کہ حضرت محمدﷺ رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان،حضرات حسنین اور دیگر اصحاب رضی اللہ عنھم سےمدد مانگیں؟نھیں.کیوں؟اس لیے کہ وہ”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.کیا کسی شھید،بزرگ،ولی،پیر،امام،جگھ،مقام،تارے،برج، تعویذ،جادو،جھنڈہ،تابوت،سورج،چاند،قبر وغیرہ سے مدد مانگیں؟نھیں کیوں؟اس لیے کہ وہ”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“نھیں.”رب،الرحمان،الرحیم اور مالک یوم الدین“صرف اللہ کی ذات ھے.اللہ نے یہ آسان اور عام فھم قاعدہ دیا ھے جس کو معمولی اور تھوڑا سا علم رکھنےوالا بھی باآسانی اور بنا مشقت کے سمجھ سکتا ھے. جس کو بھی آپ پکارنا چاھتے تو اس کو، اس قاعدہ پےپرکھ لو کہ کیا یہ قاعدہ اس پر لاگو ھوتا ھے؟قرآن مجید کے مطابق ھے تو قبول کر لو اور اگر قرآن کے مطابق نھیں تو چھوڑ دو.ان صفات کےعلاوہ کسی کو بھی پکارا گیا تو وہ بدترین شرک اور قرآن کا انکار ھے اور جو قرآن کا انکار کرتا ھے اس کا ٹھکانا ابدی جھنم ھے”والذین کفروا وکذبوا بآیاتنا اولآٸک اصحاب النار ھم فیھا خالدون“ان صفات کے علاوہ کسی کو بھی، غیبی پکار کےلیے ،پکارا جاتا ھے تو اصل میں اس کو نھیں پکارا جاتا ھے اور نہ ھی جس کو پکارا جاتا ھے اس کو،اس پکارنےوالی خبر ھے. مخلوق کو پکارنا شیطان کو پکارنا ھے اور غیبی پکارنا بندگی ھے جو شیطان کی جاتی ھے.جیسے آذر بتوں کی پوجا کرتا تھا،لیکن قرآن نے اس کی پوجا کو، شیطان کی پوجا کھا ھے”یا ابت لا تعبد الشیطان“او بابا شیطان کی بندگی نہ کر.اللہ، رسولوں،نبیوں،شھیدوں،بزرگوں وغیرہ کی بندگی کرنے والوں اور مدد مانگنےبوالوں سے،کھ رھا کہ تم ان کی بندگی نھیں کر رھے بلکہ اصل میں شیطان کی بندگی کر رھے ہو اور شیطان کی بندگی نہ کرنے کا میں نے تم سے عھد لیا تھا”الم اعھد الیکم یا بنی ان لا تعبد الشیطان“دنیا کے انسان نے اس کیے ھوٸے اقرار کو پھینک کر شیطان کی خوشی خوشی بندگی کر رھا ھے.
Comments
Post a Comment