“ ان شرک لظلم عظیم“

ان شرک لظلم عظیم

لسلام علیکم اھل علم:”کیوں کہ شرک فی العمل جو کیا ھے“ان شرک لظلم عظیم“جب سب کام قرآن کےخلاف ھوں تو کیا زبانی مسلمان ھونا کافی ھے؟زبانی مسلمانی کافی نھیں بلکہ یہ تو منافقی ھے کہ دعوہ ایک اور کام دوسرے.جس نے کلمہ طیب پڑھا اس نے اللہ سےوعدہ کیا کہ اللہ میں پچھلے سارےنظریات و اعمال کو ھمیشہ کےلیے چھوڑ کر،آپ کی قرآن اور سیرت خاتم النبیین محمد رسولﷺ کی پیروی کرنے کا وعدہ و اقرار کرتا ھوں.جو شخص اپنا کیا ھوا وعدہ پورا نہ کرتاھو وہ اس حدیث پر اپنےآپ کو پیش کرے کہ کھیں اس حدیث کا مصداق تو نھیں بن رھا؟”لا دین لمن لا عھد لہ“اس شخص کا دین اسلام سی کوٸی تعلق نھیں جو اپنا وعدہ پورا نھیں کرتا.کلمہ طیب پڑہ کر ھم اللہ سے وعدہ کرتے ھیں کہ اللہ!ھم بقایا زندگی تیرےرسول ﷺ کی پیروی میں گذاریں گے. اب ھم اپنےکیے وعدہ پےنظر کرتے ھوۓ اپنی زندگی پے نظر کریں کہ کیا ھماری زندگی کا انفرادی یا اجتماعی عمل،فرد،گھر،ملکی اور بین الاقوامی سطح پے سیرت رسولﷺ کےمطابق ھے؟اگر نھیں ھے اور یقینا نھیں ھے تو اس حدیث کے مطابق ھم کھاں کھڑے ھیں؟ قرآن پے؟نھیں.بڑا ارمان تو تب ھوتا ھے جب توحید پرست کھلانےوالے نمازی،تبلیغی،حافظ،مولوی اور مفتی صاحب اللہ سےکیے ھوٸےوعدہ کو پیٹھ پیچھے ڈال کر،من مانی کرتا ھے.کلمہ طیب چند رسومات کا نام نھیں بلکہ جنم سے لے کر قبر تک کے اعمال کا، پیروی رسول اللہ ﷺ کا نام ھے.آپ ﷺ کی زندگی کا اھم مقصد مکی زندگی کی مانند صرف تبلیغ کرنا نھیں بلکہ مدنی زندگی قاٸم کرنا تھا یعنے اسلامی نظام نافذ کرنا تھا .تو جیسے ھی ھجرت کی تو پھلا کام ”میثاق مدینہ“ کی صورت میں اسلامی حکومت قاٸم کی،نہ صرف قاٸم کی بلکہ کفر کی اس اسلامی حکومت کو ختم کرنے کی یلغار کو،82 جنگوں کی صورت میں اور سارے حجاز مقدس میں اسلامی نظام قاٸم کر کہ رھندی دنیا کے مسلمانوں کے لیے مثال قاٸم کی کہ آپ کی بقإ اسلامی حکومت کےقیام میں ھے.کیا ھمیں یہ بات سمجھ میں آ رھی ھے؟ نھیں.مسلمانوں کےپاس اس طرف سوچنے کے لیے وقت ھی نھیں بلکہ اسلام پے عمل نہ کرنےاور اسلام اور اسلامی نظام کی جدوجھد کرنےوالوں کی بدترین مخالفت میں سرتوڑ کوشش کرتے ھیں.اے مسلمانوں!”میثاق مدینہ“ پے نظر کرتے ھوٸے غور و فکر تو کرو کہ مدینہ طیبہ میں پھلےپھلے کون سا کام کیا گیا؟ ”میثاق مدینہ“ یعنے اسلامی حکومت قاٸم کی.کیوں؟اس لیے کہ جو کام حکومت کرتی ھے وہ فرد واحد نھیں کر سکتا.مکہ شریف میں انفرادی تبلیغ ھو رھی ھے.مصاٸب جھیلے جا رھےھیں اور اسلام لانا مصیبتوں کو خوشی خوشی دعوت دینا ھے اور اولاد،والدین،رشتیدار،گھر اور ملکیت سب چھوڑی جا رھی ھے” ان کی سب سے بڑی ملکیت اسلام“ھے.”ان الدین عند اللہ الاسلام“انھوں یہ الفاظ دل و جان پڑہ کر،دل ودماغ میں پیوست کیے تھے اور ان کو ١٠٠٠ مرتبہ یقین ھو گیا تھا کہ اللہ اور اس کےرسولﷺکا پسندیدہ نظام صرف اسلام ھے”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“تو اصحاب رضی اللہ عنھم نے دین اسلام کو ھی پسند کیا.اللہ کی،رسولﷺ کی أور صحابہ رضی اللہ عنھم کی پسند”اسلام“ھے.اب ھم مسلمان اپنی سیاسی زندگی پے، جو اھم عبادت ھے، پے نظر کریں کہ ھمیں کیا پسند ھے؟ اللہ کا دین یا لوگوں کی جمھوریت؟جس میں عقلمند اور کم عقل برابر،عالم اور ان پڑہ برابر،ماھر اور ناواقف برابر ،ملک کا صدر اور نشے میں غش ان پڑھ موالی برابر ھیں.صدارتی نظام یا اللہ کا نظام.پاکستان بننے سے لےکر آج تک ھم کس نظام کے لیے ووٹ دیتے آٸے ھیں.اسلامی نظام کے لیے؟؟؟نھیں بلکہ ابتک لوگوں کے نظام کے لیے ووٹ دیتے آٸے ھیں نتیجے میں کیا ملا ھے؟بوکھ،بدحالی،مھنگاٸی،بدامنی،رشوت،فراڈ،٤٠%،٣٠%،غریب،غریب تر ھوتا جا رھا اور چند امیر،امیرترین ھوتے جا رھے ھیں.ایسا کیوں نہ ھوں ؟کیوں کہ شرک فی العمل جو کیا ھے.جو بدترین گناہ ھے.اور اللہ کےھاں شرک ناقابل معافی جرم ھے.


اللہ کے نظام اسلام کو نافذ نہ کرانا ظلم و بربریت ھے



Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی