Posts

"رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ   السلام علیکم اھل عقل و شعور انسانوں:اے اللہ کی کتاب ،قرآن سے دور بھاگنے والے باغی انسانوں! اللہ انسان کا ،ان کی  جان سے بھی زیادہ ھمدرد ھے،وہ اللہ تمھیں، ھوش و حواس کی حالت میں آگاہ کر رھا ھے کہ تم یقینا مسلمان ھونے کی آرزو اور تمنا کروگے لیکن اس وقت کی آرزو کسی کام کی نھیں سواء ذلت و رسوائی کے۔  "رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ "(15:2)کسی وقت آرزو کریں گے یہ لوگ جو منکر ھیں کیا اچھا ھوتا جو ھوتے مسلمان؟ اے عقل سے کام لینے والے انسانوں ! اللہ کے نافرمانوں پر ،ایسے دن زندگی میں بھی آتے ھیں ،موت اور موت کے بعد بھی ایسا وقت آنے والا ھے جو اللہ اور قرآن کے باغی لوگ،حسرت اور ارمان سے کھیں گے کہ کیا اچھا ھوتا جو ھوتے مسلمان؟  اس وقت حسرت و ارمان کا اظھار،کسی کام کا نھیں۔ عقلمند انسان وہ ھے جو ایسے دن کے حسرت و ارمان سے، اپنے آپ کو دنیا میں قرآن مجید پر عمل کر کے بچائے۔  اس آیت سے مسلمان ھونے کی اھمیت بتائی گئی ھے کہ مسلمان ھونا کتنا اھم مقام و مرتبہ ھے جو اس وقت مسلمان ھ...

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیااور اپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔ عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہے توشخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔  تو فرمانے لگے تو عثمان غنی کے پاس جا شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہیے ہیں۔تو آپ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو ج...

"ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"

  "ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ" السلام علیکم ذمیوار دوستو:۔اللہ نے"امن اور خوشحالی"کے لیے جو فطری نسخہ دیا ھے ، اس کی طرف دنیا اور پاکسانی عوام ،آنے کے لیے تیار ھی نھیں۔۔ "ًفَلِیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَ الْبَیْتِ ۔اَلَّذِیْ اَطَعَمَھُمْ مِنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَ ھُمْ مِنْ خَوْفُِ"(106:3٫4)تو چاھیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی،جس نےان کو بھوک میں کھانا دیا اور امن دیا ڈر میں. یہ سورہ مکی ھے اور 29 ویں نمبر پے نازل ھوئی ھے. 1."ًفَلِیَعْبُدُوْا"تو چاھیے کہ بندگی کریں.2."رَبَّ"رب کی۔ 3."ھٰذَ الْبَیْتِ"اس گھر کے. 4۔"اَلَّذِیْ"جس نے. 5."اَطَعَمَھُمْ"،جس نےان کو کھانا دیا. 6."مِنْ جُوْعٍ"بھوک میں. 7."وَّ اٰمَنَ ھُمْ"اور امن دیا ان کو. 8."مِنْ خَوْفُِ"ڈر میں۔۔  اس سورہ سے پھلے سورہ الفیل ھے جس میں ایک خاص واقعے کا ذکر ھے۔اس واقعے کو نزول قرآن کے وقت، گذرے  تقریبا 41 سال ھوئے تھے لیکن واقعہ اتنا اھم اور عبرتناک تھا جو...

حضرت عمر بن عبدالعزیز

  حضرت عمر بن عبدالعزیز حضرت عمر بن عبدالعزیز بن مروان اموی قرشی خلفائے   راشدین میں   خلیفہ خامس   ہیں   جن کو مطابق   حدیث مجدد اسلام میں   پہلا   مجدد تسلیم کیا گیا ہے۔ آپ۹۹ھ میں مسند خلافت پر اس وقت   متمکن ہوئے کہ دور خلافت نے ہر   چہاراطراف میں مظالم   و مفاسد کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی جملہ مظالم کا خاتمہ کر کے شیر و بکری کوایک ہی گھاٹ   پر جمع   فرمایا ۔ علامہ   ابن   جوزی رح   نے لکھا   ہے کہ ایک دن چرواہے   نے شور کیا ۔ اس سے دریافت کی گئ تو   اس نے آ ہ بھر کر کہا کہ خلیفہ وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا ہے اسی لیے میں    دیکھ رہا ہوں کہ    بھیڑیے   نے   میری بکری پر    حملہ کردیا ۔ تحقیق   کی گئ تو جو وقت   بھیڑیے کے بکری پر حملہ کرنے کا تھا وہی    وقت   حضرت عمر بن عبدالعزیز   کے انتقال تھا۔ آپ کا سن وفات   101ھ ہے۔ آ پ نے اپنی خلافت کے   قلیل   عرصہ میں اسلا...

قرآن کے انکاری

قرآن کے انکاری  السلام علیکم اھل عقل:دنیا میں قرآن کے انکاری،اعلی اور اتم طعام کھاتے ھیں۔ان کی رھائش آرام دہ ھے۔لیکن قیامت کے دن ان کا طعام سینڈ کا درخت اور رھائش، اذیتناک جھنم ھے جس کا تصور بھی ناممکن ھے۔۔۔ مندرجہ ذیل آیات میں ان لوگوں کا ذکر ھے جو قیامت کے دن کا انکار کرتے ھیں۔ایسے لوگ نا صرف اس وقت تھے بلکہ پہلے بھی تھے،اب بھی ھیں اور مستقبل میں بھی ھوں گے۔ان سب کو ،قرآن کی صورت میں آگاہ کیا جا رھا ھےکہ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے وہ ان لاریب فیہ آیات میں غور و فکر کر کےاپنی آخرت بھتر بنائیں۔قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ھے ۔اس کی ھر ایک آیت سورج سے زیادہ روشن حقیت ھے۔کسی دل و دماغ کے اندھے کو "سورج سے زیادہ روشن حقیت" نظر نہیں آ رھی ھے تو  وہ کسی قرآن کے ماھر ڈاکٹر سے علاج کرائے،جیسے عقلمند انسان اپنی جسمانی بیماری کا علاج ڈاکر سے کرواتا ھے۔ جس طرح جسمانی بیماری  کا علاج ضروری ھے،اس سے کہیں بڑہ کر روحانی علاج اشد ضروری ھے۔جسمانی علاج نہ کرانے سے جسمانی کمزوری یا موت واقع ھوتا ھے ۔جب کہ روحانی بیماری کا نقصان ابدا آباد جھنم ھے۔   روحانی بیماری  کا علاج قر...

اللہ کی کتاب قرآن لاریب فیہ

اللہ کی کتاب قرآن لاریب فیہ السلام علیکم اھل عقل و فھم :کیا کفر انسانیت کا ھمدرد ھے؟ جو لوگ قرآن لاریب فیہ اللہ کی کتاب پر عمل نہ کر کے، اپنے آپ سے بھلائی نہ کریں،وہ کبھی بھی انسانیت کے ھمدرد نھیں بن سکتے بلکہ بدترین دشمن ثابت ھوئے ھیں۔۔"وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمُ َِ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولۤائِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ(5:45) اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو اللہ نے اتارا سو وھی لوگ ھیں ظالم۔اللہ کی یہ آیت ھر ایک ذی شعور کو خبردار کر رھی ھے کہ تمھارے ملک میں،تمھارے  حکمران، جو اللہ کے نازل کردہ ،حکموں یعنے قرآن کے مطابق فیصلے نہ کریں اور حکومتیں نہ چلائیں،وہ ظالم ھیں۔ایسی حکومت عوام کے لیے ظلم  ھے اور بربریت ھیں۔۔ یہ سند کسی اخبار کی نھیں،کسی اسکول کی نھیں،کسی بورڈ کی نھیں،کسی ادارے کے کیے گئے سروے کی نھیں،کسی جج کی نھیں،کسی جیوری کامیٹی کی نھیں،پارلیامینٹ کی نھیں،اقوام متحدہ کی نھیں بلکہ خالق نے اپنی لاریب فیہ سند میں دی ھے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکموں کے مطابق ملک میں فیصلے نھیں کرتے وہ ظالم ھیں۔۔ اے اھل علم و دانش !آپ اچھی طرح جانتے ھیں کہ کفار کے کسی بھی ملک میں ال...

اَلْحمدُ للّٰہِ رَبّ الْعَالَمِین۔الرحمٰن الرحیم۔مٰلک یوم الدین۔اِیّٰاک نعبد وایّٰک نستعین۔

  اَلْحمدُ  للّٰہِ رَبّ الْعَالَمِین۔الرحمٰن الرحیم۔مٰلک یوم الدین۔اِیّٰاک نعبد وایّٰک نستعین۔ السلام علیکم اھل علم و شعور والے دوستو: جو انسان اللہ کی لاریب فیہ کتاب قرآن پر عمل کرتے ھیں، انھیں اللہ دنیا و آخرت میں بےشمار نعمتوں سے نوازتا ھے اور جو انکار کرتے ھیں انھیں دنیا و أخرف میں ذلیل و رسوا کرتا ھے۔ومن اعرض عن ذکری فانہ معیشۃ ضنکا و نحشرۃ یوما القیٰمۃ اعمٰی۔اَلْحمدُ  للّٰہِ رَبّ الْعَالَمِین۔الرحمٰن الرحیم۔مٰلک یوم الدین۔اِیّٰاک نعبد وایّٰک نستعین۔ پہلی تین آیات میں اللہ نے اپنا تعارف کروایا ھے اور چوتھی آیت میں  پڑھنےوالوں سے اقرار اور وعدہ لے رھا ھے کہ کھو "ھم تیری ھی عبادت کرتے ھیں اور زندگی بھر تیری ھی عبادت کریں گے اور تجھ سے ھی ھم مدد اور مشکل کشائی مانگتی ھیں اور زندگی بھر مانگتے رھیں گے۔کیوں کہ تیرے سوا کو مشکل کشا اور رب،الرحمٰن،الرحیم اور مٰلک یوم الدین  اور کوئی نھیں۔ اللّٰہ کے سوا جن فوت یا شھید انسانوں کو پکارا جاتا ھے،وہ شھید،ولی ،بزرگ،پیر،وغیرہ دوسروں کی مدد و مشکل کشائی کرنا بھت دور کی بات ھے وہ اپنی مدد بھی نھیں کر سکتے کہ وہ قبر سے نکل ک...