اللہ کے سواء کوئی بھی نبی صدیق،شہید اور ولی و امام: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، وَمَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ

 اِكْتَشَفُوْا فِيْ مَقَالَتِنَا "اللہ کے سواء کوئی بھی نبی صدیق،شہید اور ولی و امام" مَا يَجْعَلُ اَللّٰه مُمَيِّزًا فِيْ قُرْبَانِه، وَاِكْتَسِبُوْا إِلَى اَلْمَعْرِفَةِ اَلْإِسْلَامِيِّةِ.

اللہ کے سواء کوئی بھی نبی صدیق،شہید اور  ولی و امام"اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ,الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ" نہیں ،جس سے مدد و مشکل کشائی اور نصرت طلب کی جائے۔

س:مشکل کشا،حاجت روا اور مدد کرنے والا کون ھوتا ھے؟

1:وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ (6:17الانعام)۞ترجمہ:اور اگر پہنچا دے تجھ کو اللہ کچھ سختی تو کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں سوا اس کے اور اگر تجھ کو پہنچا دے بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

2:ج:تَبٰرَكَ الَّذِىۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرُۙ‏ (67:1ملک)ترجمہ:بڑی برکت ہے اس کی جس کے ہاتھ میں ہے راج اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔

اس سے جس کا حکم ساری کائنات پے چلتا ھے۔

3:اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ترجمہ:سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو پالنے والا سارے جہان کا۔

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞ترجمہ:بےحد مہربان نہایت رحم والا۔

مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۔ترجمہ:مالک روز جزا کا۔مشکل کشا اور مدد گار جو "رب،الرحٰن،اکرحیم مٰلک یوم" ھوتا ھے۔

4:مشکل کشا اور مدد کرنے والا وہ ھوتا ھے جو"اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُۚ  لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌ‌ؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ‌ؕ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ‌ۚ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَىۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ‌‌ۚ وَلَا يَــئُوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا ‌ۚ وَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ (2:256 بقرہ)ترجمہ:اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے سب کا تھامنے والا نہیں پکڑسکتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور ایسا کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کی اجازت سے۔ جانتا ہے جو کچھ خلقت کے روبرو ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ سب احاطہ نہیں کرسکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں تمام آسمانوں اور زمین کو اور گراں نہیں اس کو تھامنا ان کا اور وہی ہے سب سے برتر عظمت والا۔ھے۔

5:مشکل کشا اور مدد کرنے والا وہ ھوتا ھے جو:هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ۚ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ‌ ۚ هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ‏(59:22 حشر) ترجمہ:وہ اللہ ہے جس کے سوائے بندگی نہیں کسی کی جانتا ہے جو پوشیدہ ہے اور جو ظاہر ہے وہ ہے بڑا مہربان رحم والا ھے۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ اَلۡمَلِكُ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ الۡمُؤۡمِنُ الۡمُهَيۡمِنُ الۡعَزِيۡزُ الۡجَـبَّارُ الۡمُتَكَبِّرُ‌ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ(59:23 حشر)ترجمہ:وہ اللہ ہے جس کے سوائے بندگی نہیں کسی کی وہ بادشاہ ہے پاک ذات سب عیبوں سے سالم امان دینے والا پناہ میں لینے والا زبردست دباؤ والا صاحب عظمت پاک ہے اللہ ان کے شریک بتلانے سے۔

هُوَ اللّٰهُ الۡخَـالِـقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ‌ لَـهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى‌ؕ يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ(59:24 حشر)ترجمہ:وہ اللہ ہے بنانے والا نکال کھڑا کرنے والا صورت کھینچنے والا اسی کے ہیں سب نام خاصے پاکی بول رہا ہے اس کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا۔ 

6:مشکل کشا اور حاجت روا وہ ھوتا ھے جو:" وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ (57:4 حدید)ترجمہ:اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے۔

7:مشکل کشا اور حاجت روا وہ ھوتا ھے جو: "قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‌ ۞ترجمہ:تو کہہ وہ اللہ ایک ہے۔

اَللّٰهُ الصَّمَدُ‌ ۞ترجمہ:اللہ بےنیاز ہے۔

لَمۡ يَلِدۡ  ۙ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ ۞ترجمہ:نہ کسی کو جنا نہ کسی سے جنا۔

وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ.ترجمہ:اور نہیں اس کے جوڑ کا کوئی۔ 

نوٹ : حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر امام الانبیاء وخاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک،کوئی بھی رسول و نبی مندرجہ بالا  صفات والا ھرگز نہیں جو مدد،مشکل کشائی،حاجت روائی اور نصرت  کر سکے۔

مندرجہ بالا صفات کی ذات سے بغاوت و سرکشی کر کے جس فوت یا شہید مقرب انسان یا دوسری مخلوق سے  مدد و مشکل کشائی طلب کی جاتی ھے ،وہ اصل میں شیطان سے مدد و مشکل کشائی طلب کی جاتی ھے اور اس کی بندگی کی جاتی ھے:يٰۤـاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ‌ ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا (19:44 مریم)ترجمہ:اے باپ میرے مت پوج شیطان کو بیشک شیطان ہے رحمن کا نافرمان۔ جب کہ حضرت عزیر علیہ السلام اللہ کا نبی ھے،اللہ نے سو سال تک اسے موت دے دی۔موت کے پھر زندہ کیا۔پوچھا تو کتنی دیر رھا؟ تو جوب دیا:"قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ‌ؕ".بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم.

اَوۡ كَالَّذِىۡ مَرَّ عَلٰى قَرۡيَةٍ وَّ هِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ‌ۚ قَالَ اَنّٰى يُحۡىٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ‌ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ‌ؕ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَ‌ؕ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ‌ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَةَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡ‌ۚ وَانْظُرۡ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ‌ وَانْظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُـنۡشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوۡهَا لَحۡمًا ‌ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ (2:259 بقرہ)ترجمہ:کیا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گزرا وہ ایک شہر پر اور وہ گر پڑا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مرگئے پیچھے، پھر وہ مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو کہا تو کتنی دیر یہاں رہا، بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا، سڑ نہیں گیا، اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کیواسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم نے ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتے ہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت، پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ پر چیز پر قادر ہے۔

س:انسان ،انسان کی مصیبت اور مشکل میں مدد کرتے ھیں،کیا یہ مشکل کشائی نہیں،جس طرح اسلام کی شروعات میں حضرت ابوبکر صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنے کی بدولت معذب غلاموں کو آزاد کرانا اور ھر مشکل میں خاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ھر ایک مہم میں، مالی مدد کرتے رھنا، یہاں کہ جنگ تبوک کے موقعے پے گھر میں جو کچھ سامان تھا، سب لے کر حاضر خدمت کیے؟

 رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جس کا مجھ پر احسان تھے ان کے احسانات میں نے دنیا میں اتار دیے،سواء ابوبکر کے۔ان کے احسانات کا بدلہ اللہ قیامت کے دن ،اسے دے گا۔

س: مکہ شریف سے ھجرت کے وقت جان و اولاد اور مال سب داؤ پے لگا کر،تین  دن غار ثور میں، جہاں،ابوبکر صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کے گھر کے سارے افراد بیٹیاں،بیٹے اور غلام ،دن رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر مدد کر رھے ھیں،کیا یہ مدد و مشکل کشائی نہیں؟

س:حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے لیے خصوصاً اسلام کی مدد و مشکل کشائی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، اللہ سے طلب کرنا ،کیا یہ مدد و مشکل کشائی نہیں ھے؟ 

س:سب صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ھر جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو لبیک کہتے ھوئے،جانی اور مالی مدد کرتے تھے،مدد اور مشکل کشائی نہیں,جس کا ثبوت اللہ نے قرآن مجید کی صورت میں سند نازل کی ھے؟

ج:وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ‌ؕ هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ(8:62انفال)

ترجمہ:اور اگر وہ چاہیں کہ تجھ کو دغا دیں تو تجھ کو کافی ہے اللہ، اسی نے تجھ کو زور دیا اپنی مدد کا اور مسلمانوں کا۔ سب مومنین یصابہ رضوان اللہ علیہم نے اللہ کے رسول خاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت کی۔

ج:زندہ لوگ جو ایک دوسرے کی مدد و مشکل کشائی کرتے ھیں،اس کو قرآن مجید نے "نستعین"نہیں کہا بلکہ"وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ"(5:2مائدہ)

ترجمہ: اور آپس میں مدد کرو نیک کام پر اور پرہیزگاری پر اور مدد نہ کرو گناہ پر اور ظلم پر اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

زندہ لوگوں کا نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد و معاونت کرنے کواللہ نے" وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌" کہا ھے۔"نستعین "نہیں۔

تحریر: استاد غلام حیدرگھنیوں

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی