قرآنی واقعہ اور سبق: اللہ کے مقرب بندوں اور شہداء سے مدد طلب کرنے کی حقیقت

قرآنی واقعہ اور سبق: اللہ کے مقرب بندوں اور شہداء سے مدد طلب کرنے کی حقیقت

لسلام علیکم:مندرجہ ذیل قرآنی واقعے میں،ان لوگوں کے لیے بڑا سبق ھے،جو اللہ کے فوت شدہ مقرب بندوں یا شہید کو اپنے مسائل کے حل کے لیے پکارتے ھیں اور ان سے مدد و مشکل کشائی طلب کرتے ھیں۔جب کہ اس مندرجہ بالا قرآنی آیت میں زندہ مقرب ترین انسان نبی حضرت یعقوب علیہ السلام، اپنی مدد و مشکل کشائی حل نہیں کر سکتا تو فوت شدہ مقرب یا شہید کی دوسری کی مدد کرنا ناممکن ھے۔

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰٮةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِى الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ (12:88 یوسف)ترجمہ:سو جب یہ لوگ یوسف پر داخل ہوئے تو کہنے لگے اے عزیز ہمارے اور ہمارے گھروالوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم یہ ایسی پونجی لائے ہیں جو رد کئے جانے کی مستحق ہے سو آپ ہمیں پورا غلہ دیجئے اور ہم پر صدقہ کردیجئے بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو اس کی جزا دیتا ہے. 

حضرت یعقوب علیہ السلام جو زندہ نبی ھیں،اس کے بیٹے،جن کے معاشی حالات بہت ابتر ھیں ،دوسری ضروریات کو تو چھوڑو، کھانے کے لیے غلہ بھی نہیں اور پونجی بھی ناکارہ ،جس کی کوئی اھمیت نہیں۔

جب مصر میں اپنے بھائی سےملتے ھیں اور گفتگو کرتے ھیں،ذرہ غور کرو کہ اس گفتگو میں کتنا درد بھرا ھوا ھے؟بھائی کہتے ھیں: 

"قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ"کہنے لگے اے عزیز!.

"مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ"ہمارے اور ہمارے گھروالوں کو تکلیف پہنچی ہے۔ 

ھم جو یہاں آئے ھیں ،انہیں اور گھر والے،باپ اور خاندان،سب کے معاشی حالات بہت مشکل گزر رھے ھیں،یہاں تک غلہ بھی نہیں۔

"وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰٮةٍ"اور ہم یہ ایسی پونجی لائے ہیں جو رد کئے جانے کی مستحق ہے۔ 

ھم جو غلہ لینے کے لیے پونچی لائے ھیں،وہ بھی قیمتی نہیں،ناکارہ ھے۔

" فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَاؕ"سو آپ ہمیں پورا غلہ دیجئے اور ہم پر صدقہ کردیجئے۔ 

سو تو ھم پر مہربانی کر،اس ناکارہ پونجی کے بدلے ھمیں غلہ دیجئے۔

اے عزیز!اس پونجی کے بدلے کے سواء،ھمیں صدقہ میں اناج بھی دیجئے۔ 

"اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِى الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ"بیشک اللہ صدقہ کرنے والوں کو اس کی جزا دیتا ہے. 

اللہ تمہیں جزا دے گا۔

وقت کا زندہ نبی حضرت یعقوب علیہ السلام،جس کا رتبہ امام،صدیق، شہید،ولی سے کہیں بڑہ کر ھے۔اس پر مشکل آن پڑی ھے۔بیٹا لا پتہ ھے،اس کا غم کھا رھا ھے ،جو بہت بڑی مشکل ھے اور اس کے ساتھ معاشی حالات بدتر ھو گئے ھیں جو کھانے کے لیے غلہ بھی نہیں اور غلہ خریدنے کے لیے پونجی بھی نہیں۔

تحریر: استاد غلام حیدر گھنیو

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی