حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ: اسلام لانے کے بعد ہجرت اور کاتب وحی کی خدمات

 حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ: اسلام لانے کے بعد ہجرت اور کاتب وحی کی خدمات

حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ،اسلام لانے کے بعد ھجرت کی۔اللہ کے رسول خاتم النبیین و المعصومین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی مرضی سے بات نہیں کرتا تھا جب تک اللہ کی طرف سے وحی نہیں آتی تھی،نے حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کو"کاتب وحی" مقرر کیا۔وحی  کے ساتھ ساتھ دوسری خط و کتابت بھی حوالے کی۔۔

سورہ توبہ جو تقریباً ذوالقعدہ کے اختتام 9 ھجری میں نازل ھوئی ھے،جبکہ فتح مکہ رمضان 8ھجری میں ھوا، اس کی 20,21,22 آیات میں ایمان لانے والوں، ھجرت کرنے والوں اور اللہ کی راہ میں اپنی مالوں اور جانوں سےجنگ کرنے والوں کے لیے کہا گیا ھے"اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡۙ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏(9:20التوبہ)

ترجمہ:جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں.

يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ(9:21توبہ) ترجمہ:

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ (922توبہ)ترجمہ:(اور وہ) ان میں ابدا لآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔

"اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏", "يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ","خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ" یہ مھاجرین صحابہ رضوان اللہ علیہم کے لیے اللہ کی بھیجی ھوئی سند ھے اور حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ مھاجر اور کاتب وحی ھیں۔

 حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نزول وحی سے 5 سال پہلے پیدا ھوئے۔فتح مکہ 8ھجری کے موقعے پے اسلام لانے کا اعلان کیا اور مدینہ طیبہ ھجرت کی۔

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَهَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا مَعَكُمۡ فَاُولٰۤئِكَ مِنۡكُمۡ‌ؕ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ (8 :75 الانفال)ترجمہ:اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے۔ وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کے رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 

اللہ اس آیت میں ،مھاجرین و انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم کو کہہ رھا کہ  جنہوں نے بعد میں ایمان لایا،مدینہ طیبہ ھجرت کی،تمھارے ساتھ جھاد کیا "فَاُولٰۤئِكَ مِنۡكُمۡ‌ؕ"وہ بھی تم ھی میں سے ھیں.وہ بھی"اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ"ھیں۔

اور پہلے پہلے جنہوں نے ھجرت و نصرت کی ھے وہ سب"اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ"ھیں۔

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ (8:74الانفال)ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ (8:100 توبہ)ترجمہ:جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

 اس آیتِ میں مھاجرین و انصار اور جنہوں نے مھاجرین و انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم کی نیکوکاری کےساتھ پیروی کی،اللہ مھاجرین و انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اور ان کے پیروکاروں سے راضی اور ان کے لیے اللہ نے جنت تیار کی ھے۔ 

حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ مھاجر اور کاتب وحی ھیں ،قرآن کی سند سے اللہ اس سے راضی اور اس کے لیےجنت تیار کی ھے اور قیامت تک جو حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کی نیکوکاری کے ساتھ پیروی کرے گا اللّٰه اس سے بھی راضی ھوگا اور اس کے لیے جنت تیار کر رکھی ھے۔یہ قرآن کا فیصلہ ھے۔

حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ نے بحری بیڑا تیار کر کے جنگوں کی شروعات کی اور 28ھجری قبرص,32ھجری میں قسطنطنیہ کے قریب،33ھجری میں افرنطیہ،ملطیہ اور روم کے کچھ علائقے،42ھجری میں سجستان کا واقعہ اور سندہ کے کچھ علاقے فتح ھوئے۔43ھجری میں سوڈان فتح ھوا اور سجستان کے مزید علاقے فتح ھوئے۔44ھجری میں افغانستان فتح ھوا۔45ھجری میں آفریقا کا بڑا حصہ فتح ھوا ۔46ھجری میں صقلیہ پے حملہ ھوا۔50\51غزوہ قسطنطنیہ پے حملہ کیا۔54ھجری میں مسلمان"نہر جیحون" کو عبور کر کے بخارا پہنچے۔56ھجری میں سمرقند کا معرکہ ھوا۔(العبر فی خبر من نمبر ج1)

حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں اور کفار کے بیچ میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں،آپ رضی اللّٰہ عنہ نے کسی بھی جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

اسلام لانے کے بعد،حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ،ھمیشہ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رھے اور آپ اس مقدس جماعت کے رکن رھے،جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے"کتابت وحی"کے لیے مقرر فرمایا تھا۔(جمال الدین یوسف :النجوم  الزاھرۃ فی الملوک مصر و القادری صہ 154ج1,مطبوعہ مصر،مجمع الزوائد ومتبح الفوائد وہ 357ج9, مطبوعہ بیروت 1967ع ابن عبد البر: الاستیعاب تحت الاصابہ صہ 345ج3, البدایہ والنہایہ صہ21ج8)

علامہ ابن حزم رح لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے "کاتبوں میں سے سب سے زیادہ حضرت زید بن ثابت،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں رھتے تھے اور ان کے بعد دوسرے نمبر پے حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ تھے۔(جوامع السیرہ صہ27,جامع ترمذی صہ 247ج2,اسد الغابہ صہ386 ج 4, تاریخ بغداد وہ 208ج1)

امام بخاری رح اپنی کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ھے :'اول جيش من أمتي  يغزون البحر قد اوجبوا"میری امت کا پہلا لشکر جو بحری لڑائی لڑے گا،اس نے اپنے اوپر جنت واجب کردی ھے۔(صحیح بخاری ج1صہ410)

سن 27ھجری میں ،حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ،قبرص کی طرف اپنا بحری بیڑا لےکر روانہ ھوئے اور سن 28ھجری میں،قبرص حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے ھاتھوں فتح ھوا۔(جمال الدین یوسف: النجوم الزاہرہ ج1 صہ85،حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ،مولانا محمود اشرف عثمانی صہ33)

سن41ھجری میں سیدنا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللّٰہ عنہ،سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ سے صلح کر کے اپنی خلافت،اس کے حوالے کی سورہ گجرات کی مندرجہ ذیل آیت کی سچائی کا 100٪ثبوت دیا۔

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ(49:9الحجرات)ترجمہ:اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ‌ۚ‌وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ(49:10حجرات) 

ترجمہ:مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے۔

یہ پیشنگوئی قرآن پہلے دی تھی اور قرآن کی یہ پیشن گوئی 100٪تھی اور سچ ثابت ھوئی۔

سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ،حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللّٰہ عنہ کے لیے سالانہ ایک لاکھ درھم وظیفہ مقرر کیا۔(العبر ,ج1,صہ 48)  

جو لوگ حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے خلاف تاریخ کے بنیاد پے جھوٹ اور من گھڑت باتیں منصوب کرتے ھیں انہیں یاد رکھنا چاھیے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ کا ھمدرد، خیر خواہ،جان نثار وغیرہ تم سے کہیں بڑہ کر ،اس بھادر بیٹے حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللّٰہ عنہ تھے۔

انہوں معاہدہ کر کے، خلافت حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کے حوالے کی ۔اب ان  مکار و دشمنان اسلام و قرآن،ختم نبوت واصحابہ رضوان اللہ علیہم کو حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ پے ناراض ھونے اور چیخ و پکار کرنے کے بجائے،"الحسن و الحسین سید الشباب اھل الجنت"رضی اللّٰہ عنھما ہے ناراض ھونا چاھیے کہ انہوں نے معاہدہ کیوں کیا اور کیوں دو لاکھ درھم ھر ماہ حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ سے لیتے رھے؟

تحریر: استاد غلام حیدر گھنیو

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی