شان حضرت عمر رضی اللہ عنہ: خلافت کی مثالی قیادت
السلام علیکم:اے اھل عقل! حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ وہ صحابی ھیں جس کی راء کے مطابق اللہ نے قرآن نازل کیا۔جنگ بدر کے موقعے پے،قیدیوں کے معاملے میں،داماد علی،صہر رسول،حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے جو راء دی تھی،اللہ نے،اس راء کے مطابق مندرجہ ذیل آیت نازل کی۔
مَا كَانَ لِنَبِىٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِى الۡاَرۡضِؕ تُرِيۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡيَا ۖ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ(8:65انفال) ترجمہ:
پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔
تفسیر:(حتی یثخن فی الارض) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ بدر کے دن جب قیدیوں کو لایا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا تم لوگ ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم))آپ کی قوم اور رشتہ دار ہیں ان کو زندہ رکھیں۔شاید اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیں اور ان سے فدیہ لے لیں جو ہمارے لئے کفار کے خلاف قوت کا سبب بنے۔
اور حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!ان لوگوں نے آپ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور آپ(علیہ السلام) کو مکہ سے نکالا،آپ ان کو ہمیں دیں ہم ان کی گردنیں اڑائیں۔ علی (رض) کو عقیل پر قدرت دیں کہ وہ عقیل کی گردن اڑائیں اور مجھے میرے فلاں رشتہ دار پر قدرت دیں میں اس کی گردن کاٹوں کیونکہ یہ کفر کے بڑے امام ہیں اور عبد اللہ بن رواحہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ایسی وادی میں ان کو داخل کردیں جہاں خشک لکڑیاں زیادہ ہوں، پھر ان کو آگ لگا دیں ۔
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا میلان حضرت ابوبکر (رض) کی رائے کی طرف تھا، میری رائے کی طرف نہ تھا۔ جب میں اگلے دن آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) بیٹھے رو رہے تھے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! مجھے تو بتایئے کہ آپ اور آپ کے ساتھی کس بات پر رو رہے ہیں ؟ تو اگر مجھے بھی رونا آگیا تو میں بھی روئوں گا ورنہ رونے کی صورت میں بنا لوں گا تو آپ(علیہ السلام) نے فرمایا مجھے تیرے ساتھیوں کی اس بات نے رلا دیا کہ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے تحقیق ان پر عذاب اس درخت سے بھی قریب آچکا تھا آپ (علیہ السلام) نے اپنے قریب ایک درخت کی طرف اشارہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ” ما اکن لنبی ان یکون لہ اسریٰ “ حتی یثخن فی الارض اپنے قول (فکلوا مما غنمتم حلالاً طیبا) تک اتاری تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے غنیمت کو حلال کردیا (اسری) اسیر کی جمع ہے قطعی اور قتیل کی طرح (حتی یثخن فی الارض) یعنی مشرکین کو قتل اور قید کرنے میں مبالغہ کرے۔ (تریدون عرض الدنیا) فدیہ لے کر (واللہ یرید الاخرۃ) اللہ تمہارے لئے ثواب چاہتا ہے تمہیں دشمن پر غالب کر کے.(واللہ عزیز حکیم)۔تفسیر بغوی۔
اے رافضی!تجھے داماد علی حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے،یہود و غیر مسلموں سے بڑہ کر عداوت ھے۔جب تمہیں داماد علی حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے دشمنی ھے تو پہر اس کی راء کے مطابق نازل ھونے والا قرآن کیسے مانے گا اور اس عمل کرے گا؟تو منکر قرآن ھے اور منکر قرآن کا ابدی ٹھکانا جھنم ھے۔اور اگر تمہیں ھمت و جرئت ھے تو قرآن کا علی الاعلان انکار کر کے یہود و کفر کی مانند،بدترین کافر ھونے کا اقرار کر لے۔
تحریر استاد غلام حیدر
Comments
Post a Comment