ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے


 

 

 

 

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا بیان فرماتے ہیں کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے "اہے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔"تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہی تورات میں بھی فرمایا تھا "اہے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ان پڑھوں کی حفاظت کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے، آپ نہ بدخو ہیں اور نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور کرنے والے۔" نیز آپ کی مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیں گے بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیں گے اور اللّٰہ ان کی روح اس وقت تک قبض نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ کج قوم کو سیدھا نہ کرلیں، یعنی جب تک وہ ان سے " لا الہ الااللہ" کا اقرار نہ کرالیں، چناچہ اس کلمہ توحید کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینائی، بہرے کانوں کو سننے والا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دیں گے۔" یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ سیرت نبوی اور اسوہ محمدی ہی وہ واحد منبع فیض ہے، جس سے معاشرے کی سعادت کے چشمے پھوٹتے ہیں اور زندگی سنورتی ہے۔ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے ایک امتی کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق رہن سہن، عادات واطوار، انداز تربیت اور دعوت کا طریقہ کار کیسا تھا؟ ان کی عائلی ومعاشرتی اور سیاسی زندگی کے کیا رنگ ڈھنگ تھے۔ 

Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی