ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا کافی نھیں بلکہ بار بار ترجمہ پڑھنا چاھیے.


ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا کافی نھیں بلکہ بار بار ترجمہ پڑھنا چاھیے.

ایک مرتبہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا کافی نھیں بلکہ بار بار ترجمہ پڑھنا چاھیے.ترجمہ پڑھنے کے بعد اس میں غور و فکر کرنا بھی اللہ کا ھی حکم ھے”ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکر“ سب سے پہلے ترجمہ اور اس میں غور و فکر پر کام کریں. مثلاً: بسم اللہ میں غور کریں اور خود سوال کر کے جواب تلاش کریں.١.کس کے نام سےشروع؟٢.کس کے نام کے ساتھ؟٣.اسی کے ھی نام سے کیوں شروع؟ ٤.اسی کے نام سے ھی کیوں؟٥.کسی دوسرے کے نام سے کیوں نھیں؟٦.کسی دوسرے کے نام سے شروع کیوں نھیں؟ سوالوں کے جوابات تلاش کرو.قرآن اپنے صرف الفاظ پڑھانے نھیں نازل ہوا ہے بلکہ زندگی کا نمونہ اور ڈھنگ تبدیل کرانے آیا ھے کیوں کہ انسان کی زندگی کا نمونہ بالکل نقصاندھ بنا ھوا ھے. ھمارا حال یہ ھے کہ سالہا سال قرآن کی تلاوت کرتے رہے لیکن تبدیلی نام کی کوئی چیز نھیں. لوگوں کی باتوں کو غور و فکر سے سن کر عمل کیا لیکن اللہ کی "لاریب فیہ" کتاب جو گھر،دکان،آفس وغیرہ میں پڑی ہے پڑھنے کے لیے تیار ہی نھیں.جب ھم پڑھنے کے لیے تیار نھیں تو ترجمہ کیسے دیکھیں گے؟ اگر پڑھا اور ترجمہ دیکھا تو غورو فکر کون کرےگا؟جس نے غوروفکر ہی نہ کیا وہ اس پر عمل کیسےکرےگا؟جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر عمل کرنے کو اللہ کہہ رہا ھے”اتبع ما یوحی الیک من ربک“ھم بھی یہی آیت پڑھتے ہیں اور ھم سے بھی اس پر عمل کرنے کا مطالبہ ہو رھا ھے. اس لیے آٶ اور لوٹو اللہ کی کتاب پےعمل کی طرف جس میں دنیا میں خوشحالی اور امن ھے جبکہ آخرت میں اللہ کی رضا اور جنت ھے.اگر دنیا میں قرآن سے بغاوت کی تو پھر اللہ نے نتیجہ بتا دیا ھے”ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا و نحشرہ یوم القیامة اعمی" 
غلام حیدر گھنجو


Comments

Popular Posta

How to Make a Full Body Workout

بل گیٹس کا ٹیکنالوجی میں کامیابی کا راستہ

قرآن کے انکاری

سخاوت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ کی