اللہ "رَبُّ٫ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ,خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ"
اللہ "رَبُّ٫ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ,خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ"
السلام علیکم اھل عقل و شعور انسانوں:اللہ "رَبُّ٫ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ,خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ"ھے۔وہی انسانوں کی قولی،فعلی اور ھر قسم کی بندگی کے لائق ھے۔اگر اللہ کے سواء کسی انسان یا مخلوق کی بندگی کی گئی تو وہ انسان یا کسی مخلوق کی بندگی نھیں بلکہ شیطان کی بندگی ھے۔یٰابت لا تعبد الشیطان۔"الم اعھد الیکم یٰبنی اٰدم ان لا تعبد الشیطٰن"
"ذَٰلِكُمُ ٱللَّـهُ رَبُّكُمْ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ فَٱعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ(سورہ الانعام:107) یھی اللہ تمھارا رب ھے،نہیں ھے کوئی معبود سوائے اس کے،پیدا کرنے والا ھر چیز کا،سو تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ھرچیز پر کارساز ھے۔
اس آیت میں اللہ نے اپنی صفات "رب٫ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ,خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ" بیان کی ھے۔وہی اللہ تمھارا معبود ھے جو رب ھے۔
اللہ نے قرآن کریم میں اپنے ذاتی نام اللہ کے بعد جو زیادہ صفاتی نام بیان کیا ھے وہ ھے"رب"۔
قرآن مجید میں بھت ساری دعائیں ھیں جو "رب"سے شروع ھوتی ھیں۔
1"ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاٰخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار".
2.رب اغفر و ارحم و انت خیر الراحمین۔
3.ربنا اغفر لی و لوالدی و للمؤمنین یوم یقوم الحساب۔4.رب انی مسنی الضر و انت ارحم الراحمین۔
5.ربنا ظلمنا و انفسنا و الم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخٰسرین۔
6.رب ارحمھما کما رب یٰنی صغیرا۔
7.رب انصرنی علی القوم المفسدین۔
8.رب اشرح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدۃ من لسانی یفقھوہ قولی۔9.ربنا ھبلنا من لدنک ذریۃ انک سمیع الدعاء۔
10.رب زدنی علما۔
11.ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھبلنا من لدنک رحمۃ .وغیرہ۔
خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار دعائیں ھے جو رب سے مانگی گئی ھیں جو کتب احادیث میں موجود ھے۔
اللہ نے اس آیت میں رب صفات کے بعد "لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ,خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ" بیان کی ھیں کہ وھی اللہ تمھارا معبود ھے جو" رَبُّ،خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ"ھے۔
دنیا میں عبادت ،اللہ کے سواء،مخلوق کی بھی کی گئی ھے اور کی جا رھی ھے۔ عبادت میں اھم عبادت "پکارنا،مانگنا،مشکل کشائی اور مدد طلب کرنا"،دوسری عبادات سے بھت اھم ھے۔جیسے بیوی کی زوجیت والا حق سوائے شوھر کے،کسی اور کے لیے جائز نھیں۔اسی طرح "پکارنا،مانگنا،مشکل کشائی اور مدد ٫طلب کرنا"بھی صرف اللہ کا ھی حق ھے مخلوق کا نھیں۔ غیرت مند مرد،اپنی زوجیت والے حق میں کسی بھائی، باپ،رشتیدار یا کسی اور کو برداشت نھیں کرتا تو جو اللہ،"رَبُّ،خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ,وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌ"ھے،وہ اپنی بندگی میں مخلوق کی شراکت کیسے برداشت کرے گا؟
عام عبادت یا اھم عبادت "پکارنا،مانگنا،مشکل کشائی اور مدد ٫طلب کرنا"خالص اللہ کا حق ھے۔
اللہ اپنے حق میں کسی کی شراکت کو برداشت نھیں کرتا۔
وہ شراکت رسول، نبی، صدیق، شھید، ولی، بزرگ، پیر،امام،سورج،چاند،آگ،پانی،تارے،برج، عقیق، بت، درخت، جھنڈہ، گھوڑا، دلدل، عمامہ یا پنگوڑہ وغیرہ، کسی کی بھی ھو۔
اللہ کے سوائے کسی بھی مخلوق کی نام کی بندگی، شیطان کی بندگی ھے۔ ابراھیم علیہ سلام اپنے باپ کو کھ رھا ھے جو بتوں کی بھی عبادت کرتا تھا اور نمرود بادشاہ کی بھی عبادت کرتا تھا"یٰابت لا تعبد الشیطان۔ اے بابا! شیطان کی بندگی نہ کر۔ ظاھرا تو نمرود اور بتوں کی بندگی کرتا تھا۔
اور اللہ نے سب انسانوں سے عالم ارواح میں ،وعدہ لیا تھا کہ خبردار!شیطان کی بندگی نہ کرنا. "الم اعھد الیکم یٰبنی اٰدم ان لا تعبد الشیطٰن"
یعنے اللہ کے سواء کسی سے مدد طلب کرو،مشکل کشائی کے لیے پکارو یا کسی کو سجدہ کرو یا نیاز و سبیل،منت وغیرہ کرو، سب شیطان کی بندگی ھے۔
"یٰابت لا تعبد الشیطان۔ الم اعھد الیکم یٰبنی ان لا تعبد الشیطٰن"
استاد غلام حیدر گھنجو
Comments
Post a Comment