وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ
السلام علیکم اھل عقل:سواٸے عقل کے اندھے کے، کوٸی عقلمند ،فوت شدہ شخص کو وارث نہ مانے گا. کیا وارث شھید یا فوت شدہ ھوتا ھے؟نھیں.تو وارث کون ھوتا ھے؟وارث وہ ھوتا ھے جو زندہ ھو.”وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ(٣:١٨٠)اور اللہ وارث ھے آسمان اور زمین کا اور اللہ، جو کرتے ھو خوب جانتا ھے.اللہ کی لاریب فیہ کتاب بتاتی ھے کہ زمین و آسمان اور کاٸنات کا وارث اللہ ھے کیوں کہ وہ، جو کچھ تم ظاھرا یا پوشیدہ، کرتے ھو سب جانتا ھے. اللہ تو” حی قیوم “ ھے اور وہ وارث ھے”لہ ما فی السماوات و الارض“ کا. کیا رسول اللہ ﷺ،حضرت علی، حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت عثمان رضی اللہ عنھم وارث ھیں ؟نھیں،جب تک وہ دنیا میں رھے تب تک اپنی بیوی،بچوں،ملکتیوں کےوارث اورخلیفے تھے.جب ایک فوت ھوا تو دوسرا خلیفا بنا،دوسرا شھید ھوا تو تیسرا خلیفا ھوا اور تیسرا شھید ھوا تو چوتھا خلیفا ھوا.اگر پھلا زندہ ھوتا تو دوسرا خلیفا نہ بنتا،دوسرا زندہ ھوتا تو تیسرا خلیفا نہ ھوتا،تیسرا زندہ ھوتا تو چوتھا خلیفا نہ ھوتا اور اگر،اگر،اگر........ چوتھا زندہ ھو تا اور منصب خلافت پے ھوتا تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفا نہ بنتا.جب وہ اللہ کو پیارے ھو گٸے تو دوسرے زندہ ان کی ملکیت کے وارث بنے،بیٹے یتیم،بیوی بیوہ ،معاشرتی اور ملکی ذمےداری کسی اور کے سپرد ھوٸی. دنیا میں ھر ایک عقلمند ان پڑھ اور دیھاتی بھی جانتا ھے کہ جو فوت یا شھید ھوا،وہ زندہ آدمی کی مانند نھیں ھوتا.اس کی چار پاٸی اور پلنگ نھیں،اعلی اور اتم یا سادے طعام نھیں،ان کے بیوی بچے نھیں اور نہ وہ ان کے لیے،نہ دوستوں کے لیے بلکہ ان کا دنیاوی تعلق کٹ کر ،ان کی آخری آرامگاہ پانچ فوٹ زمین کے اندر قبر ھے. اگر انسان نے اللہ کی کتاب قرآن پےعمل کر کے زندگی گزاری تو،ان کے لیے یہ موت، قبر،حشر اور جنت میں دنیا کی نعمتوں سےصدھا بھتر نعمتیں ملیں گی .اور اگر دنیا میں اللہ کی کتاب قرآن کے مطابق زندگی نہ گذاری تو موت کےوقت سے ھی دنیا کی تکالیف سے نہ ختم ھونےوالی ایک سے بڑھ ایک تکلیف موت سے جھنم تک بڑھتی رھیں گی اور ان تکالیف سے چھڑانےوالا کوٸی نھیں ھوگا.”لاتزر وازرة وزر اخری“ کیوں کہ اللہ نے انسان کو دنیا میں قرآن پے عمل کرنے کے لیے پیدا کیا ھے اور انسان نے اللہ کا حکم نہ مان کر اور شیطان کی پیروی میں زندگی گذاری تو اللہ کی نافرمانی بھت، بھت مھنگی پڑےگی”ان بطش ربک لشدید“ بیشک اللہ کی گرفت بھت سخت ھے.حقیقی زمین و آسمان کا وارث اللہ ھے”للہ ما فی السماوات والارض“ اور عارضی زمین پے اشیإ کا وارث زندہ شخص ھے.
Comments
Post a Comment